یران کے صدارتی انتخابات

ایران میں صدارتی انتخابات کی مہم کے خاتمے کا وقت جیسے جیسے قریب آتا جا رہا ہے انتخابی مہم میں شدت مزید بڑھتی جا رہی ہے۔ جبکہ صدارتی انتخابات کے ساتھ ساتھ بلدیاتی کونسلوں کے ہونے والے انتخابات کی مہم بھی زوروں کے ساتھ جاری ہے اور سڑکوں پر ہر طرف امیدواروں

صدارتی انتخابات کے چھے نامزد امیدوار مختلف جلسوں اور پروگراموں میں اپنی ممکنہ حکومت کے ایجنڈے کی وضاحت کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہر امیدوار اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے پر تاکید کر رہا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے بارہویں دور کے صدارتی انتخابات کے نامزد امیدوار ابراہیم رئیسی سادات نے شمال مغربی ایران میں شہر ارومیہ میں اپنے ایک بیان میں لاکھوں کی تعداد میں روزگار کے قیام کو ممکن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو قوّت خرید اور ماہر افرادی قوت و ذرائع میں کمی کا سامنا نہیں ہے بلکہ ملک کا اہم ترین مسئلہ منیجمنٹ اور عملی انتظامی امور میں پائی جانے والی کمزوری کا ہے۔ انھوں نے اسی طرح شہر تبریز میں انتخابی جلسے سے اپنے خطاب میں کہا کہ کارخانے اور فیکٹریاں بنا کر سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کی ترغیب اور غریب و بے روزگار لوگوں کو روزگار کا موقع فراہم کیا جاسکتا ہے۔

ایک اور صدارتی امیدوار میرسلیم نے بھی جنوب مغربی ایران میں واقع صوبے خوزستان میں ایک بیان میں خوزستان میں اہم صنعتی، اقتصادی اور قدرتی گنجائش و توانائی کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اس صوبے میں تیل و گیس نکالے جانے کے نتیجے میں اس علاقے کے عوام کو ماحولیاتی نقصان کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ہےاور اس زہریلی گیس کو جلائے جانے کی روک تھام کرنے کے ساتھ ساتھ اسے بجلی اور پیٹروکیمیکل پیدوار میں استعمال کیا جاسکتا ہے جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

بارہویں صدارتی انتخابات کے ایک اور نامزد امیدوار محمد باقر قالیباف نے ہفتے کی رات ایران کے ٹی وی چینل ٹو کی خبروں میں خصوصی گفتگو کے دوران مہنگائی، بے روزگاری اوراقتصادی جمود کے خاتمے پر تاکید کی اور کہا کہ ہمارے ملک کا اس وقت اہم ترین مسئلہ کہ جس سے عوام بھی شدید مشکلات و مسائل سے دوچار ہیں، اقتصادی بحران ہے۔ انھوں نے کہا کہ چھٹے اقتصادی پروگرام پر عمل اور پانچ کروڑ روزگار فراہم کرنے کے لئے سرمائے، افرادی قوّت اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔

ایک اور صدارتی امیدوار اسحاق جہانگیری نے بھی تہران میں ایک انتخابی جلسے سے اپنے خطاب میں ایران کے تعلیم یافتہ جوانوں کو ایران کا سب سے بڑا سرمایہ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم اقدار و امنگ کے درپے ہیں تو ہمیں چاہئے کہ ان جوانوں پر اعتماد کریں۔

بارہویں صدارتی انتخابات کے ایک اور امیدوار مصطفی ہاشمی طبا نے ایران کے ریڈیو ٹی وی کی نیوز ایجنسی سے گفتگو میں کہا کہ سیاحت کے شعبے میں روزگار پیدا کر کے روزگار کے مواقع فراہم کئے جانے کی ضرورت ہے اور سیاحت ایک ایسا شعبہ ہے کہ جس کے ذریعے روزگار کے کافی مواقع پیدا کئے جاسکتے ہیں۔

ملک کے موجودہ صدر اور صدارتی امیدوار حسن روحانی نے بھی تہران میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سماجی تحفظ کی زندگی کے نظام کے قائل ہیں۔ گذشتہ چار برسوں میں ویلفئر سوسائٹی اور امدادی کمیٹی کے زیر اثر پینشن کے عمل میں تین گنا اضافہ ہوا ہے اور اس عمل کو غربت کے خاتمے تک بدستور جاری رکھا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب ذرائع ابلاغ عامہ، عوامی حلقوں اور گھریلو سطح پر ہونے والی بحث و گفتگو میں امیدوار کے انتخاب سے متعلق تبادلہ خیال کا سلسلہ جاری ہے۔

انٹرویوز میں بھی لوگ اپنی باتوں پر تاکید کر رہے ہیں۔

اس رو سے کہ ایران کے اسلامی انقلاب کو اڑتیس برس پورے ہو گئے ہیں دشمن، ایرانی قوم کے مقابلے میں آکر ہر بار مختلف ہتھکنڈوں سے لوگوں میں حساسیت و مایوسی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان انتخابات میں بھی ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں بعض فریق ملکوں کی خلاف ورزی، پابندیوں میں سختی اور بعض اہم مسائل منجملہ امریکہ، اسرائیل اور بعض مغربی ملکوں کے پروردہ داعش اور القاعدہ جیسے گروہ، مختلف مسائل کے ذریعے ایرانی عوام کو میدان عمل سے دور کرنے اور یا انھیں جھکنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس لئے ایران کے غیور و بیدار عوام صورت حال کو سمجھتے ہوئے انتخابات میں وسیع پیمانے پر شرکت کو ہی تسلط پسند طاقتوں کے منھ پر زوردار طمانچہ سمجھتے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی نے انتخابات میں بھرپور شرکت کی اہمیت کے پیش نظر ہمیشہ تاکید فرمائی ہے کہ صدر مملکت کا انتخاب ایک ایسا حساس مسئلہ ہے کہ جس میں تمام اہل ایرانی شہریوں کا کردار اور مداخلت و شرکت ضروری ہے اگر وہ اس سلسلے میں اپنا رول ادا نہیں کریں گے اور اسلام کو کوئی  نقصان پہنچتا ہے تو سب کے سب ذمہ دار ہوں گے اس لئے سب کی بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ بات کو سمجھیں اور جس طرح وہ نماز کا فریضہ انجام دیتے ہیں اپنے مستقبل کے تعین میں بھی اپنے فریضے پر عمل کریں۔

آپ، حق رائے دہی اور اس سلسلے میں عوام کی آزادی کے بارے میں بھی فرماتے ہیں کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کو اپنے مستقبل کے تعین کے حق میں مکمل طور پر آزاد چھوڑ دیا جائے اور ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہئے کہ کسی کو عوام پرمسلط کردیا جائے۔

قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں بارہویں صدارتی اور پانچویں بلدیاتی انتخابات آئندہ انّیس مئی بروز جمعہ منعقد ہوں گے۔