ایران کے صدارتی امیدواروں کے درمیان آخری ٹی وی مناظرہ

ایران کے صدارتی امیدواروں کے درمیان تیسرے اور آخری ٹی وی مناظرے کے پہلے مرحلے میں اقتصاد کے بارے میں بحث و گفتگو ہوئی اور امیدواروں نے ایک دوسرے پر تنقید کرتے ہوئے اپنے پروگراموں پر روشنی ڈالی اور عوام کے ووٹ زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کی-

موجودہ نائب صدر اور بارہویں صدارتی الیکشن کے امیدوار اسحاق جہانگیری نے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے دفاع کے ساتھ ہی مخالفین کے اعتراض کا جواب بھی دیا۔ اسحاق جہانگیری نے مزاحمتی اقتصاد کے دائرے میں اشیا کی اسمگلنگ اور درآمدات میں کمی بارے میں گفتگو کی اور کہا کہ ماضی میں پچّیس ارب ڈالر مالیت کی اسمگلنگ ہوتی رہی ہے جو اب کنٹرول کئے جانے پر بارہ ارب ڈالر مالیت پر پہنچ گئی ہے۔

صدارتی امیدوار ابراہیم رئیسی سادات نے اس ٹی وی مناظرے میں اقتصادی مسائل کے حل کے لئے اپنا منشور بیان کرنے کے ساتھ ہی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ جو پروگرام میں نے پیش کیا ہے کہ اس کو ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں تیار کیا گیا ہے۔ابراہیم رئیسی سادات نے سبسڈیز کی نقد رقم کو بامقصد بنائے جانے اور اس میں اضافہ کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا-

ایک اور صدارتی امیدوار مصطفی ہاشمی طبا نے کہا کہ ہمارے ملک کے لئے جس کی آزادی و خود مختاری کی ضمانت ہمارے شہدا، جانبازوں اور بارڈر سیکورٹی فورس کے جیالوں نے فراہم کی ہے، یہ افسوس کا مقام ہے کہ اسمگل کی ہوئی اشیا اور مصنوعات، ملک کے اندر داخل ہو رہی ہیں-انہوں نے اقتصادی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے معاشی ترقی اور مستحکم روزگار کے قیام اور صنعت و زراعت کو فروغ دیئے جانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ایران کی عزت و آزادی بھی اسی میں ہے-

تہران کے میئر اور بارہویں صدارتی الیکشن کے امیدوار محمد باقر قالیباف نے بھی ڈاکٹر حسن روحانی کی حکومت اور موجودہ نائب صدر اسحاق جہانگیری کی باتوں پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ غیر ملکی اشیا اور مصنوعات کی اسمگلنگ پر کیوں روک نہیں لگائی جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی اشیا کی ملک کے اندر اسمگلنگ کو روکنے کی پہلی شرط یہ ہے اس کے خلاف سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے۔ انھوں نے ملک میں اقتصادی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے اقتصادی ترقی کو آگے بڑھائے جانے کی ضرورت پر زور دیا اور اس سلسلے میں اپنے مجوزہ پروگرام کا ذکر کیا۔

صدارتی امیدوار مصطفی آقا میر سلیم نے اپنی گفتگو میں حکومت کی امپورٹ اکسپورٹ پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے موجودہ نائب صدر اور صدارتی امیدوار اسحاق جہانگیری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ اعتراض کرتے ہیں کہ رئیسی صاحب اپنا انتخابی پروگرام کیوں پیش نہیں کرتے تو آپ نے بھی اپنا انتخابی منشور پیش نہیں کیا ہے، آپ بھی عوام کو بتائیں کہ آپ کے پاس کیا پروگرام ہے؟ انہوں نے کہا کہ اشیا کی اسمگلنگ کوئی معمولی بات تو نہیں ہے۔ انھوں نے تیل کی آمدنی پر انحصار نہ کئے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی برآمدات میں اضافہ کوئی فخر کی بات نہیں اس لئے کہ یہ اقدام مزاحمتی اقتصاد کے خلاف ہے۔

موجودہ صدر اور صدارتی امیدوار ڈاکٹر حسن روحانی نے اپنے نائب اور صدارتی امیدوار اسحاق جہانگیری کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کی دنیا میں اشیا اور مصنوعات کی اسمگلنگ کا کوئی مفہوم نہیں ہے- انہوں نے کہا کہ جب بات اسمگلنگ کی ہوتی ہے تو اس کا مطلب انسانوں کی اسمگلنگ یا ہتھیاروں اور منشیات کی اسمگلنگ ہوتا ہے- انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ملک میں آزاد رقابت کا ماحول پیدا کرنا ہوگا اور اس کے لئے نجکاری کو کھلا رکھہ چھوڑنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ آزاد رقابت کی صورت میں ہی ہم اچھی اور معیاری مصنوعات تیار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بھی اشیا کی اسمگلنگ کی روک تھام کی ضرورت پر تاکید کی- اسلامی جمہوریہ ایران کا آئین جو اعلی اسلامی تعلیمات کے زیرسایہ اور نبوی اور علوی حکومتوں کے طرز حکومت سے عبارت ہے، یہ کہتا ہے کہ اسلامی نقطہ نظر پر استوار حکومت میں کسی خاص طبقے یا انفرادی تسلط کا دخل نہیں ہوتا بلکہ اس میں عوام کے سبھی طبقوں کی حصہ داری ہوتی ہے تاکہ اپنے آخری ہدف اور منزل تک، جو اللہ کی جانب راستہ ہے، قدم بڑھائے-

اس حقیقت کے پیش نظر ملک کے تمام سیاسی مراحل میں عوام کے سبھی طبقوں سے تعلق رکھنے والوں کو فیصلہ سازی کے امور میں شرکت کا حق ملتا ہے اور اسی صورت میں روئے زمین پر مستضفین کی حکومت کا وعدہ عملی ہو سکتا ہے۔

رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بھی جو عوام اور اسلامی نظام کے اصل محافظ ہیں، اپنے حالیہ خطاب میں صدارتی امیدواروں کو نصحیت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ آپ کے نزدیک عوام کی معاشی مشکلات کا حل سرفہرست ہونا چاہئے- آپ ایسے انتخابی وعدے کریں جن میں ملک کی عزت اور قومی خود مختاری کا پہلو جلوہ گر ہو- اقتصادی علاقائی اور نسلی فاصلوں اور اختلافات کو ہوا دینے سے مکمل طور پر پرہیز کریں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے عوام کی معاشی ضروریات کو پورا کرنے پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ میں ان سبھی امیدواروں کو سفارش کرتا ہوں کہ عوام سے مجھے کہنا تھا وہ کہہ چکا ہوں ان امیدواروں سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے انتخابی وعدوں اور بیانات میں یا عوام کے سامنے جو پروگرام پیش کر رہے ہیں ان میں دو تین چیزوں کا ہر حال میں خیال رکھیں ایک اقتصادی مسئلہ ہے اس پر ہر حال میں توجہ دیں- اقتصادی مسائل پر کھل کر بات کریں اور عوام کے سامنے صراحت کے ساتھ کہیں کہ وہ اقتصادی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ ایک بہت اہم مسئلہ ہے وہ کہیں کہ عوام کے معاشی مشکلات کو حل کرنا ان کے نزدیک سب سے پہلا کام ہے۔ صدارتی الیکشن کی تشہیراتی مہم کے ساتھ ساتھ شہری اور دیہی اسلامی کونسلوں کے انتخابات کے لئے انتخابی مہم زوروں پر ہے اور سبھی امیدواروں نے اپنے اپنے حلقوں میں عوامی جلسے اور مختلف طریقوں سے انتخابی مہم کو تیز کر دیا ہے-

ایران کے صدارتی اور بلدیاتی انتخابات میں اب صرف پانچ دن کا وقت بچا ہے جو بہت ہی اہم اور حساس اور اسی عرصے میں عوام کو اپنے امیدواروں کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کسے ووٹ دیں-