سامرا کے محلات

متوکل نے سامرا کو اپنا دارالخلافہ قرار دیا اورشہرکےبڑےبڑے محلات  میں سے قصر ہارونی کواپنےلئے منتخب کیا۔اورمعتصم کا محل جو

عباسی خلفاء نے جب سامرا کی طرف نقل مکانی کی تو وہ سب فسق اورفجور اورسرور اور شادمانی کی محفلیں سجانے کے حوالے سے مشہورتھے۔اسی لئے انہوں نے  اس شہر میں جگہ جگہ اور دجلہ  کےکنارے  سرسبز اورخوش آب  اورہوا محلات تعمیر کروائے۔آج کل ان محلات کے کھنڈرات اورویران اور شکستہ دیوریں اورستون باقی ہیں۔

ان محلات میں سے بعض  المتوکلیہ کےشہرمسجدجامع متوکل  کےشمال میں واقع ہیں ان کے نام یہ ہیں :قصر العروس ،قصر المختار،قصرالغریب ،قصرالصبح ،قصر الملیح ،قصر البستان،قصر التل،قصر الجوسق،قصر المتوکلیہ ،قصر اللوالو  وغیرہ  وغیرہ

بعض مورخین کے اقوال کے مطابق ان محلات میں سے ہرایک کی عمارت پر کم ازکم پانچ میلین درھم خرچ ہوئے تھے۔

"سیمای سامرا" نامی کتاب میں مرقوم ہےکہ:

متوکل نے سامرا کو اپنا دارالخلافہ قرار دیا اورشہرکےبڑےبڑے محلات  میں سے قصر ہارونی کواپنےلئے منتخب کیا۔اورمعتصم کا محل جو جوسق کے نام سے مشہورتھا،کو اپنے بیٹے محمد منتصر کےلئے اورمطیرہ قصر کو اپنے دوسرے بیٹے ابراہیم موئدکےلئے اوربزکوار  محل کو اپنے بیٹے معتز کےلئے انتخاب کیا۔

                احتمال پایاجاتاہےکہ معتصم عباسی کے بعد سامرا کی تعمیر اورآبادی پر سب سے زیادہ وقت  متوکل عباسی  نے لگایاہے۔یہ سب کچھ اُس نے رفاہ عامہ اورمسلمانوں کی سہولت کے لئے نہیں بلکہ اس کے بالکل برخلاف    خلیفہ اورعباسی شہزادوں اور وزراء اورظالموں کی آسائش کےلئے تعمیرات انجام دیں ۔

 تاریخ سامرا کے مصنف نےتقریبا ۳۰ محلات کاتذکرہ کیا ہے جو متوکل نے سامرا میں تعمیرکروایاہے۔ہم اختصارکی وجہ سےان کے بارے میں زیادہ تفصیلات  نہیں دے سکتے لہذا صرف ان کی فہرست ہی بیان کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ سامرا کی تاریخ کے ضمن میں اسلامی خلافت کےدعویداروں کی تاریخ سے بھی آگاہی حاصل کرسکیں:

۱-قصرالاحمدیہ،متوکل کےبیٹےابوالعباس احمدمعتمد کا مخصوص محل

۲-قصر الاشناس،یہ محل قدیم سامرا کےمغرب میں جبکہ آج کل کے سامراکے شمال میں واقع ہے۔عباسی لشکرکےسربراہوں میں سے ایک اشناس ترک کے ساتھ مخصوص محل ہے۔

۳-قصرالبدیع:ایک بہت بڑا اوربلندمحل جس کی خوبصورتی کی وجہ  اسے "بدیع" کہاجاتاتھا۔

۴-قصر بزکوارایا بلکوار:متوکل کےبیٹے معتزکامخصوص محل

۵-قصر البرج:وہ محل جس کی تعمیرکےلیے متوکل نے مسلمانوں کے بیت المال سے دس ملین  درھم خرچ کئے۔

۶-قصر البھو:وہ محل جس کی تعمیرکےلئے متوکل کی طرف سے ۲۵ملین درھم ادا کئے گئے۔

۷:قصر التل:اس محل کی تعمیرکےلئےبھی خلیفہ نے مسلمانوں کے بیت المال سے پانچ ملین درھم خرچ کئےگئے۔اس محل کو تل العتیق اورتل المخالی بھی کہا جاتاہے۔ایک بہت ہی  دلکش حدیث ہے جو حدیث التل اورحدیث تل المخالی کے نام سے مشہورہے۔

متوکلیہ:سامرا کاایک قدیم شہرہے۔ یہ شہر متوکل عباسی نے بنایاتھااورآج کل اس شہرکے کھنڈرات  سامراکے شمال سے تھوڑےہی فاصلے سے نظر آجاتےہیں۔اس شہرکی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ اسن میں ایک  منظم اورمستقیم سڑک ہے ۔اس جیسی سڑک دوسرےشہروں میں بہت کم دیکھائی دیتی ہے۔ اس شہر میں  "جامع ابی دُلَف " نامی مسجد پائی جاتی ہے۔

جامع ابی دُلَف

سامرا کی ایک اورپرانی اورتاریخی مسجد ابودلف بھی ہے۔جس کی تعمیر عباسی حکمرانوں میں سے ابودلف قاسم بن عیسی عجلی کرجی{ف ۲۲۶ق}نے کی۔ابودلف شعر وادب اور جنگ وشجاعت میں بہت مشہورتھا۔اُس نے ایران  کی طرف بھی ایک سفرکیا۔اوراپنے اس سفر کی یادوں کو "سفرنامہ ابودلف در ایران" میں محفوظ کیاہے۔

مسجدابی دلف سامراکے شمال مشرق میں محلہ متوکلیہ میں واقع ہے۔جس کا رقبہ ۳۰ہزار مربع میٹرہے۔اس میں ۱۷ گیٹ پانچ ایوان اورہال ہیں۔ان ایوان میں محراب اورمنبر بنائیں گے ہیں۔اس کے تین صحن ہیں  ۔ اس کے ایک طرف ایک منار بھی موجودہے۔اس مسجد کی تعمیر تقریبا ۲۴۶ ق میں مکمل ہوئی۔اب اس  مسجدکی ٹوٹی پھوٹی دیواروں اورایوان کے کھنڈر کے علاوہ  باقی کوئی چیز دیکھائی نہیں دیتی۔

مسجدجامع

عراق کے شہرسامرا کی  ایک بہت بڑی ،پرانی اورتاریخی مسجدہے۔ یہ مسجد بھی تیسری صدی ہجری قمری میں متوکل کے زمانے میں تعمیرہوئی۔ اس کی تعمیر میں ۸۴۸ ءسے لےکر ۸۲۵ء تک کا عرصہ لگا۔یہ مسجدقدیمی ہونے کے لحاظ سے بھی اوربڑی ہونے کے لحاظ سے بھی عراق کی سب سے بڑی مسجد ہے۔اس کا داخلی رقبہ 240 × 156میٹر اوربیرونی رقبہ376 × 440میٹرہےکہ جو کل ملا کر ۳۸۰۰۰ مربع میٹر بنتاہے۔۱۴ دروازے کہ جن میں سے ۳ شمالی اور۴مغربی اور مشرقی جبکہ ۹ داروازے جنوب میں نصب ہیں اس مسجد کا صحن بھی110 × 160  میٹرہے۔

یہ مسجد عصر حاضر کے سامرا شہر سے باہر امام عسکریین علیہماالسلام سےتقریبا ۲کلومیٹر کے فاصلےپر واقع ہے۔آج کل اس مسجد میں سے صرف اس کی دیواریں اور ملویہ نامی منارہ باقی بچاہے۔اس مسجد کےاندرونی حصے پر چھت نہیں ہے۔اس مسجدکی دیواریں قلعے کی طرح موٹی موٹی ہیں۔کہ جو تقریبا دو میٹر ضخامت رکھتی ہیں۔ان کی اونچائی دس میٹر اوراس کے مخلف مقامات پر چالیس گنبدہیں۔شمال اورجنوب میں میں سے ہر ایک میں آٹھ گنبداورمشرق اورمغرب میں دس گنبدہیں۔

اس مسجد کی تعمیرپر اُس وقت تقریبا چارلاکھ طلائی دینار خرچ ہوئے تھے۔یہ پہلے شہر سے باہر واقع تھی اس  کے راستے کی اطراف میں بازار اوردکانیں بنائیں گئی تھی۔اس مسجدکا راستہ بہت کھلا تھا تاکہ خلیفہ پیدل یا سوار ہوکر آسانی سے اس سے گذر سکے اورنماز میں شرکت کر سکے۔اس مسجدکے صحن میں ایک تالاب تھا کہ جس کا فوارہ ہمیشہ آب فشانی کرتا رہتا۔اس مسجد کی بھی اب صرف اورصرف دیواریں اورمنارے ہی باقی بچے ہیں۔عصر حاضر میں ان کی تعمیرنو کی گئی ہے۔

منارہ ملویہ

متوکل عباسی نےسامرا کی بڑی مسجدکےشمالی حصے میں ایک منارتعمیرکروایا کہ جو آج کل بھی تقریبا ۱۲۰۰ گذرنے کےبعد بھی  اپنی جگہ قائم ہے۔اوربہت دور سے ہی دیکھنےوالوں  کی نظروں کا مرکزبن جاتاہے اوروہ اسے دیکھتے ہی رہ جاتےہیں۔یہ عظیم منار اسلوب تعمیرکاری کے لحاظ سے دُنیا کے عجائبات اوراسلامی دُنیا میں بے مثال ہے۔اس کی اونچائی ۵۵میٹرہے کہ جو ۳۲مربع  میٹر رقبےپر مشتمل ایک ستون پر قائم ہے۔یہ منارمخروطی شکل میں ۳۲مربع میٹرکی چوڑائی سے شروع ہوتاہےاوراپنی انتہائی بلندی تک پہنچتاہے اورپھر اس کا سرا ۶ میٹر رقبے پر ختم ہوتاہے۔ اس منارکی سیڑھیوں بنانےکے منفرد طریقہ کار اس منارکےعجائبات میں سے ہے۔کیونکہ دوسرےمناروں کے برخلاف اس کی سیڑھیاں اندرکی بجائے باہر اورمنارے کی اطراف کی طرف سےہیں۔اورچھ دائروں میں بل کھاتی نیچے سے اوپر کی طرف بڑھی ہوئی ہیں۔ان سیڑہیوں میں سے ہر ایک کی اُونچائی تقریبا دس سینٹِ میٹرہے۔ان کے چھوٹےہونے کی وجہ یہ ہے کہ خلیفہ گھوڑے پر سوار ہوکر ان سے اوپر جاتےتھے۔بعدکے ادوارمیں ابن طولون نے اسی طرح کی ایک مسجد اورمنارقاہرہ میں تعمیرکروایا۔لیکن وہ اس کی نسبت چھوٹی تھی۔ فن معماری کےاس شاہکارکی بنیاد کلدانیوں بابلیوں اوربابل کےمنارکی پیروی میں رکھی گئی ہے۔چونکہ وہ ایسے گرجے اورمعابد تعمیر کرواتے تھےتاکہ دور لے جاکر اپنے خداوں کے لئے قربانی دے سکیں۔

 

 مأثر الكبراء: ج 1، ص 39.

 -گذشتہ حوالہ: ص 47 به نقل از مروج الذهب. تاريخ مسعودي.

 

Add new comment