محرم الحرام میں تفکر کیجئے

محرم الحرام میں تفکر کیجئے

بقلم:::::::::::ساجد حسین

ہجری و اسلامی سال کا آغاز محرم سے ہوتا ہے، محرم کی اتنی اہمیت و فضلیت ہے کہ زمانہ قبل اسلام کے لوگ حتی کہ کفار و مشرکین بھی محرم سمیت چار مہینوں میں جنگ و جدل سے احتراز کرتے تھے۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ اسلام کے لبادے میں مسلط ظالم و جابر ملوکیتی حکمرانوں بنی امیہ اور یزید ملعون نے اس مبارک مہینے میں رسول اللہ ص کے نواسے امام حسین علیہ السلام کو دشتِ کربلا میں اپنے اصحاب و انصار سمیت شہید کر دیا۔ لیکن تا قیامت ابدی فتح و کامرانی پھر بھی حق اور امام حسین علیہ السلام کے نام ہوئی اور لعنت کا حقدار یزید لعین ہی ٹھرا۔ یہی وجہ ہے کہ محرم کو، "تلوار پر خون کی فتح" کا مہینہ کہا جاتا ہے۔ امام خمینی رح نے آج کی کربلا میں بھی درسِ کربلا پر عمل پیرا ہو کر وقت کی یزیدی صفت قوتوں امریکہ اسرائیل اور ان کے ایجنٹوں کو شکست دی۔
ولی امر المسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای کہتے ہیں کہ "امام خمینی رح فرماتے تھے کہ لوگ ہمیں رونے اور عزاداری کرنے والے پکار کر مذاق اڑاتے تھے لیکن ہم نے انہی آنسوؤں و عزاداری سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی مدد سے صدیوں پر محیط بادشاہی نظام اور ڈیکٹیٹر شپ کا خاتمہ کر دیا۔"
شہید قائد عارف الحسینیؒ نے فرمایا کہ "ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ سید الشہداء امام حسین علیہ السلام و کربلا ہی کی بدولت ہے، کربلا حادثہ نہیں بلکہ آئین زندگی ہے۔ عزاداری سید الشہداء (ع) ھماری شہہ رگ حیات ہے، جس طرح مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح ہم عزاداری کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔"
تمام اسلامی مہینوں کی طرح اس ماہ کے بھی مخصوص اعمال ہیں، ان اعمال کی فضیلت کے بارے میں جس قدر بھی بیان کیا جائے کم ہے، جب ہم کتبِ اسلامی کا مطالعہ کرتے ہیں تو آئمہ اطہار علیھم السلام سے بےشمار روایات ملتی ہیں جو اس مہینے کے اعمال کی بیانگر ہیں۔  انہی کی روشنی میں کچھ اعمال کا تبرکا یہاں ذکر کیا جا رہا ہے اس امید کے ساتھ کہ انشاءاللہ اسلام ٹائمز کہ قارئین کے لئے مفید ثابت ہوں گے۔
اول محرم کا دن:
یہ سال کا پہلا دن ہے اور اس کے لئے دو عمل بیان ہوئے ہیں۔
۱۔ روزہ رکھے اس ضمن میں ریان بن شبیب نے امام علی رضا علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ جو شخص پہلی محرم کا روزہ رکھے اور خدا سے کچھ طلب کرے تو وہ اس کی دعا قبو ل فرمائے گا۔ جیسے حضرت زکریا علیہ السلام کی دعاء قبو ل فر مائی تھی۔
۲۔ امام علی رضا علیہ السلام سے روایت ہے کہ حضرت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلی محرم کے دن دو رکعت نماز ادا فرماتے اور نماز کے بعد اپنے ہاتھ سوئے آسما ن بلند کر کے دعا کرتے تھے۔
شیخ طوسی رح نے فرمایا کہ محرم کے پہلے نو دنوں کے روزے رکھنا مستحب ہے مگر یوم عاشورہ کو عصر تک کچھ نہ کھائے پئے اور بعد عصر تھوڑی سی خاک شفا کھا لے سید نے پورے ماہ محرم کے روزے رکھنے کی فضیلت لکھی اور فرمایا ہے کہ اس مہینے کا روزے رکھنا انسان کو ہر گناہ سے محفوظ رکھتا ہے سوائے یوم عاشورہ کیونکہ اس دن کا روزہ مکروہ ہے اور بعض کے نزدیک حرام ہے۔حلالِ خدا و رسول ص کو حرام قرار دینا اور حرام کو حلال قرار دینے کی بدعت بھی اسلام میں بنی امیہ نے ڈالی۔
کربلا کے واقعہ اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے اقوال پر نظر ڈالنے سے، عاشورا کے جو پیغام ہمارے سامنے آتے ہیں ان کو ہم اس طرح بیان کر سکتے ہیں۔
(1) پیغمبر (ص) کی سنت کو زندہ کرنا:
بنی امیہ یہ کوشش کر رہے تھے کہ پیغمبر اسلام (ص) کی سنت کو مٹا کر زمانہٴ جاہلیت کے نظام کو جاری کیا جائے۔ یہ بات حضرت کے اس قول سے سمجھ میں آتی ہے کہ "میں عیش و آرام کی زندگی بسر کرنے یا فساد پھیلانے کے لئے نہیں جا رہا ہوں بلکہ میرا مقصد امت اسلامی کی اصلاح اور اپنے جد پیغمبر اسلام (ص) و اپنے بابا علی بن ابی طالب کی سنت پر چلنا ہے۔"
(2) باطل کے چہرے پر پڑی ہوئی نقاب کو الٹنا:
بنی امیہ اپنے ظاہری اسلام کے ذریعہ لوگوں کو دھوکہ دے رہے تھے۔ واقعہ کربلا نے ان کے چہرے پر پڑی اسلامی نقاب کو الٹ دیا، تاکہ لوگ ان کے اصلی چہرے کو پہچان سکیں۔ ساتھ ہی اس واقعے نے لوگوں کو یہ درس بھی دیا کہ انسان کو ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیئے اور دین کا لبادہ اوڑھے فریبکار لوگوں سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیئے۔
(3) امر بالمعروف کو زندہ رکھنا:
حضرت امام حسین علیہ السلام کے ایک قول سے معلوم ہوتا ہے، کہ آپ کے اس قیام کا مقصد امر بالمعروف و نہی عن المنکر تھا۔ آپ نے ایک مقام پر بیان فرمایا کہ میرا مقصد امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے۔ ایک دوسرے مقام پر بیان فرمایا کہ: اے اللہ! میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کو بہت دوست رکھتا ہے۔
(4) حقیقی اور ظاہری مسلمانوں کے فرق کو نمایاں کرنا:
آزمائش کے بغیر سچے مسلمانوں، معمولی دینداروں اور ایمان کے جھوٹے دعویداروں کو پہچاننا مشکل ہے۔ اور جب تک ان سب کو نہ پہچان لیا جائے، اس وقت تک اسلامی سماج اپنی حقیقت کا پتہ نہیں لگا سکتا۔ کربلا ایک ایسی آزمائشگاہ تھی جہاں پر مسلمانوں کے ایمان، دینی پابندی و حق پرستی کے دعووں کو پرکھا جا رہا تھا۔ امام علیہ السلام نے خود فرمایا کہ لوگ دنیا پرست ہیں جب آزمائش کی جاتی ہے تو دیندار کم نکلتے ہیں۔
(5) عزت کی حفاظت کرنا:
حضرت امام حسین علیہ السلام کا تعلق اس خاندان سے ہے، جو عزت و آزادی کا مظہر ہے۔ امام علیہ السلام کے سامنے دو راستے تھے، ایک ذلت کے ساتھ زندہ رہنا اور دوسرا عزت کے ساتھ موت کی آغوش میں سو جانا۔ امام نے ذلت کو پسند نہیں کیا اور عزت کی موت کو قبول کر لیا۔ آپ نے فرمایا ہے کہ ابن زیاد نے مجھے تلوار اور ذلت کی زندگی کے بیچ لا کھڑا کیا ہے، لیکن میں ذلت کو قبول کرنے والا نہیں ہوں۔
(6) طاغوتی طاقتوں سے جنگ:
امام حسین علیہ السلام کی تحریک طاغوتی طاقتوں کے خلاف تھی۔ اس زمانے کا طاغوت یزید بن معاویہ تھا کیونکہ امام علیہ السلام نے اس جنگ میں پیغمبراکرم (ص) کے قول کو سند کے طور پر پیش کیا ہے کہ "اگر کوئی ایسے ظالم حاکم کو دیکھے جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال اور اس کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام کر رہا ہو، تو اس پر لازم ہے کہ اس کے خلاف آواز اٹھائے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اسے اللہ کی طرف سے سزا دی جائے گی۔"
(7) دین پر ہر چیز کو قربان کر دینا چاہیئے:
دین کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اسے بچانے کے لئے ہر چیز کو قربان کیا جا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے ساتھیوں، بھائیوں اور اولاد کو بھی قربان کیا جا سکتا ہے۔ اسی لئے امام علیہ السلام نے شہادت کو قبول کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کی اہمیت بہت زیادہ اور وقت پڑنے پر اس کو بچانے کے لئے سب چیزوں کو قربان کر دینا چاہئے۔
(8) شہادت کے جذبے کو زندہ رکھنا:
جس چیز پر دین کی بقا، طاقت، قدرت و عظمت کا دارومدار ہے وہ جہاد اور شہادت کا جذبہ ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے دنیا کو یہ بتانے کے لئے کہ دین فقط نماز روزے کا ہی نام نہیں ہے یہ خونی قیام کیا ،تاکہ عوام میں جذبہٴ شہادت زندہ ہو اور عیش و آرام کی زندگی کا خاتمہ ہو۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ میں موت کو سعادت سمجھتا ہوں۔ آپ کا یہ جملہ دین کی راہ میں شہادت کے لئے تاکید ہے۔
(9) اپنے ہدف پر آخری دم تک باقی رہنا:
جو چیز عقیدہ کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے، وہ ہے اپنے ہدف پر آخری دم تک باقی رہنا۔ امام علیہ السلام نے عاشورا کی پوری تحریک میں یہی کیا کہ اپنی آخری سانس تک اپنے ہدف پر باقی رہے اور دشمن کے سامنے تسلیم نہیں ہوئے۔ امام علیہ السلام نے امت مسلمہ کو ایک بہترین درس یہ دیا کہ حریم مسلمین سے تجاوز کرنے والوں کے سامنے ہرگز نہیں جھکنا چاہیئے۔
(10) جب حق کے لئے لڑو تو ہر طبقہ سے کمک حاصل کرو:
کربلا سے، ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر سماج میں اصلاح یا انقلاب منظور نظر ہو تو سماج میں موجود ہر طبقہ سے مدد حاصل کرنی چاہیئے۔ تاکہ ہدف میں کامیابی حاصل ہو سکے۔ امام علیہ السلام کے ساتھیوں میں جوان، بوڑھے، سیاہ سفید، غلام آزاد سبھی طرح کے لوگ موجود تھے۔
(11) افراد کی قلت سے گھبرانا نہیں چاہیئے:
کربلا، امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے اس قول کی مکمل طور پر جلوہ گاہ ہے کہ "حق و ہدایت کی راہ میں افراد کی تعدا د کی قلت سے نہیں گھبرانا چاہیئے۔" جو لوگ اپنے ہدف پر ایمان رکھتے ہیں ان کے پیچھے بہت بڑی طاقت ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کو اپنے ساتھیوں کی تعداد کی قلت سے نہیں گھبرانا چاہیئے اور نہ ہی ہدف سے پیچھے ہٹنا چاہیئے۔ امام حسین علیہ السلام اگر تنہا بھی رہ جاتے تب بھی حق سے دفاع کرتے رہتے اور اس کی دلیل آپ کا وہ قول ہے جو آپ نے شب عاشور اپنے ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ سب جہاں چاہو چلے جاؤ یہ لوگ فقط میرے -----۔
(12) ایثار کے ساتھ سماجی تربیت کو ملا دینا:
کربلا، تنہا جہاد و شجاعت کا میدان نہیں ہے بلکہ سماجی تربیت اور وعظ و نصیحت کا مرکز بھی ہے۔ تاریخ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کا یہ پیغام پوشیدہ ہے۔ امام علیہ السلام نے شجاعت، ایثار اور اخلاص کے سائے میں اسلام کو نجات دینے کے ساتھ لوگوں کو بیدار کیا اور ان کی فکری و دینی سطح کو بھی بلند کیا، تاکہ یہ سماجی و جہادی تحریک ،اپنے نتیجہ کو حاصل کرکے نجات بخش بن سکے۔
(13) تلوار پر خون کو فتح:
مظلومیت سب سے اہم اسلحہ ہے۔ یہ احساسات کو جگاتی ہے اور واقعہ کو جاودانی بنا دیتی ہے۔ کربلا میں ایک طرف ظالموں کی ننگی تلواریں تھی اور دوسری طرف مظلومیت۔ ظاہراً امام علیہ السلام اور آپ کے ساتھی شہید ہو گئے۔ لیکن کامیابی بھی انہی کو حاصل ہوئی۔ ان کے خون نے جہاں باطل کو رسوا کیا وہیں حق کو مضبوطی بھی عطا کی۔ جب مدینہ میں حضرت امام سجاد علیہ السلام سے ابراہیم بن طلحہ نے سوال کیا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ تو آپ نے جواب دیا کہ اس کا فیصلہ تو نماز کے وقت ہو گا۔
(14) پابندیوں سے نہیں گھبرانا چاہیئے:
کربلا کا ایک درس یہ بھی ہے کہ انسان کو اپنے عقیدہ و ایمان پر قائم رہنا چاہیئے۔ چاہے تم پر فوجی و اقتصادی پابندیاں ہی کیوں نہ لگی ہوں۔ امام علیہ حسین السلام پر تمام پابندیاں لگی ہوئی تھی۔ کوئی آپ کی مدد نہ کرسکے اس لئے آپ کے پاس جانے والوں پر پابندی تھی۔ نہر سے پانی لینے پر پابندی تھی۔ مگر ان سب پابندیوں کے ہوتے ہوئے بھی کربلا والے نہ اپنے ہدف سے پیچھے ہٹے اور نہ ہی دشمن کے سامنے جھکے۔
(15) نظام :
حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنی پوری تحریک کو ایک نظام کے تحت چلایا۔ جیسے بیعت سے انکار کرنا، مدینہ کو چھوڑ کر کچھ مہینے مکہ میں رہنا، کوفہ و بصرے کی کچھ شخصیتوں کو خط لکھ کر انہیں اپنی تحریک میں شامل کرنے کے لئے دعوت دینا۔ مکہ، منیٰ اور کربلا کے راستے میں تقریریں کرنا وغیرہ۔ ان سب کاموں کے ذریعہ امام علیہ السلام اپنے مقصد کو حاصل کرنا چاہتے تھے۔ عاشورا کے قیام کا کوئی بھی جز بغیر تدبیر کے پیش نہیں آیا۔ یہاں تک کہ عاشور کی صبح کو امام علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کے درمیان جو ذمہ داریاں تقسیم کی تھیں وہ بھی ایک نظام کے تحت تھیں۔
(16) خواتین کے کردار سے استفادہ:
خواتین نے اس دنیا کی بہت سی تحریکوں میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر پیغمبروں کے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو حضرت عیسیٰ ، حضرت موسیٰ، حضرت ابراہیم علیہم السلام------ یہاں تک کہ پیغمبر اسلام (ص) کے زمانے کے واقعات میں بھی خواتین کا کردار بہت موثر رہا ہے۔ اسی طرح کربلا کے واقعات کو جاوید بنانے میں بھی حضرت زینب سلام اللہ علیہا، حضرت سکینہ علیہا السلام، اسیران اہل بیت اور کربلا کے دیگر شہداء کی بیویوں کا اہم کردار رہا ہے۔ کسی بھی تحریک کے پیغام کو عوام تک پہونچانا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ کربلا کی تحریک کے پیغام کو عوام تک اسیران کربلا نے ہی پہنچایا ہے۔
(17)میدان جنگ میں بھی یاد خدا:
جنگ کی حالت میں بھی اللہ کی عبادت اور اس کے ذکر کو نہیں بھولنا چاہیئے۔ میدان جنگ میں بھی عبادت و یادخدا ضروری ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے شب عاشور دشمن سے جو مہلت لی تھی، اس کا مقصد تلاوت قرآن کریم، نماز اور اللہ سے مناجات تھا۔ اسی لئے آپ نے فرمایا تھا کہ میں نماز کو بہت زیادہ دوست رکھتا ہوں۔ شب عاشور آپ کے خیموں سے پوری رات عبادت و مناجات کی آوازیں آتی رہیں۔ عاشور کے دن امام علیہ السلام نے نماز ظہر کو اول وقت پڑھا۔ یہی نہیں بلکہ اس پورے سفر میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی نماز شب بھی قضا نہ ہو سکی، گو کہ آپ کو بیٹھ کر ہی نماز کیوں نہ پڑھنی پڑی ہو۔
(18) اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا:
سب سے اہم بات انسان کا اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے۔ چاہے اس ذمہ داری کو نبھانے میں انسان کو ظاہری طور پر کامیابی نظر نہ آئے۔ اور یہ بھی ہمیشہ یاد رکھنا چاہیئے کہ انسان کی سب سے بڑی کامیابی اپنی ذمہ داری کو پورا کرنا ہے، چاہے اسکا نتیجہ کچھ بھی ہو۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے بھی، اپنے کربلا کے سفر کے بارے میں یہی فرمایا تھا کہ جو اللہ چاہے گا بہتر ہو گا، چاہے میں قتل ہو جاؤں یا مجھے (بغیر قتل ہوئے) کامیابی مل جائے۔
(19) مکتب کی بقاء کے لئے قربانی:
دین کے معیار کے مطابق، مکتب کی اہمیت، پیروان مکتب سے زیادہ ہے۔ مکتب کو باقی رکھنے کے لئے حضرت علی علیہ السلام و حضرت امام حسین علیہ السلام جیسی معصوم شخصیتوں نے بھی اپنے خون و جان کو فدا کیا ہے۔ امام حسین علیہ السلام جانتے تھے کہ یزید کی بیعت دین کے اہداف کے خلاف ہے لہٰذا بیعت سے انکار کر دیا اور دینی اہداف کی حفاظت کے لئے اپنی جان قربان کر دی، اور امت مسلمہ کو سمجھا دیا کہ مکتب کی بقا کے لئے مکتب کے چاہنے والوں کی قربانیاں ضروری ہیں۔ انسان کو یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ قانون فقط آپ کے زمانہ سے ہی مخصوص نہیں تھا بلکہ ہر زمانہ کے لئے ہے۔
(20) اپنے رہبر کی حمایت ضروری ہے:
کربلا اپنے رہبر کی حمایت کی سب سے عظیم جلوہ گاہ ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے شب عاشور اپنے ساتھیوں کے سروں سے اپنی بیعت کو اٹھالیا تھااور فرمایا تھا جہاں تمھارا دل چاہے چلے جاؤ۔ مگر آپ کے ساتھی آپ سے جدا نہیں ہوئے اور آپ کو دشمنوں کے نرغہ میں تنہا نہ چھوڑا۔ شب عاشور آپ کی حمایت کے سلسلہ میں حبیب ابن مظاہر اور ظہیر ابن قین کی بات چیت قابل غور ہے۔ یہاں تک کہ آپ کے اصحاب نے میدان جنگ میں جو رجز پڑھے ان سے بھی اپنے رہبر کی حمایت ظاہر ہوتی ہے، جیسے حضرت عباس علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر تم نے میرا دایاں ہاتھ جدا کر دیا تو کوئی بات نہیں، میں پھر بھی اپنے امام و دین کی حمایت کروں گا۔ مسلم ابن عوسجہ نے آخری وقت میں جو حبیب کو وصیت کی وہ بھی یہی تھی کہ امام کو تنہا نہ چھوڑنا اور ان پر اپنی جان قربان کر دنیا۔
(21) دنیا، خطرناک لغزش گاہ ہے:
دنیا کے عیش و آرام و مال و دولت کی محبت تمام سازشوں اور فتنہ و فساد کی جڑ ہے۔ میدان کربلا میں جو لوگ گمراہ ہوئے یا جنہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا، ان کے دلوں میں دنیا کی محبت سمائی ہوئی تھی۔ یہ دنیا کی محبت ہی تو تھی جس نے ابن زیاد اور عمر سعد کو امام حسین علیہ السلام کا خون بہانے پر آمادہ کیا۔ لوگوں نے شہر ری کی حکومت کے لالچ اور امیر سے ملنے والے انعامات کی امید پر امام علیہ السلام کا خون بہایا۔ یہاں تک کہ جن لوگوں نے آپ کی لاش پر گھوڑے دوڑائے انھوں نے بھی ابن زیاد سے اپنے اس کرتوت کے بدلے انعام چاہا۔ شاید اسی لئے امام حسین علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ لوگ دنیا پرست ہو گئے ہیں، دین فقط ان کی زبانوں تک رہ گیا ہے۔ خطرے کے وقت وہ دنیا کی طرف دوڑنے لگتے ہیں۔ چونکہ امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں کے دلوں میں دنیا کی ذرہ برابر بھی محبت نہیں تھی ،اس لئے انہوں نے بڑے آرام کے ساتھ اپنی جانوں کو راہ خدا میں قربان کر دیا۔ امام حسین علیہ السلام نے عاشور کے دن صبح کے وقت جو خطبہ دیا اس میں بھی دشمنوں سے یہی فرمایا کہ تم دنیا کے دھوکہ میں نہ آ جانا۔
(22) توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے:
توبہ کا دروازہ کبھی بھی بند نہیں ہوتا، انسان جب بھی توبہ کرکے صحیح راستے پر آ جائے بہتر ہے۔ حر جو امام علیہ السلام کو گھیر کر کربلا کے میدان میں لایا تھا، عاشور کے دن صبح کے وقت راہِ باطل سے ہٹ کر حق کی راہ پر آ گیا۔ حر امام حسین علیہ السلام کے قدموں پر اپنی جان کو قربان کرکے کربلا کے عظیم ترین شہیدوں میں داخل ہو گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کے لئے ہر حالت میں اور ہر وقت توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔
(23) آزادی:
کربلا، آزادی کا مکتب ہے اور امام حسین علیہ السلام اس مکتب کے معلم ہیں۔ آزادی وہ اہم چیز ہے جسے ہر انسان پسند کرتا ہے۔ امام علیہ السلام نے عمر سعد کی فوج سے کہا کہ اگر تمھارے پاس دین نہیں ہے اور تم قیامت کے دن سے نہیں ڈرتے ہو تو کم سے کم آزاد انسان بن کر تو جیو۔
(24) جنگ میں ابتداء نہیں کرنی چاہیئے:
اسلام میں جنگ کو اولویت نہیں ہے۔ بلکہ جنگ، ہمیشہ انسانوں کی ہدایت کی راہ میں آنے والی رکاوٹ ک دور کرنے کے لئے کی جاتی ہے۔ اسی لئے پیغمبر اسلام (ص) حضرت علی علیہ السلام و امام حسین علیہ السلام نے ہمیشہ یہی کوشش کی، کہ بغیر جنگ کے معاملہ حل ہو جائے۔ اسی لئے آپ نے کبھی بھی جنگ میں ابتداء نہیں کی۔ امام حسین علیہ السلام نے بھی یہی فرمایا تھا کہ ہم ان سے جنگ میں ابتداء نہیں کریں گے۔
(25) انسانی حقوق کی حمایت:
جنگ کا میدان تھا مگر امام علیہ السلام نے انسانوں کے مالی حقوق کی مکمل حمایت کی۔ کربلا کی زمین کو اس کے مالکوں سے خرید کر وقف کیا۔ امام علیہ السلام نے جو زمین خریدی اس کا حدود اربعہ چار ضرب چار میل تھا۔ اسی طرح امام علیہ السلام نے عاشور کے دن فرمایا کہ اعلان کر دو کہ جو انسان مقروض ہو وہ میرا ساتھ نہ دے۔
(26) اللہ سے راضی رہنا:
انسان کا سب سے بڑا کمال، ہر حال میں اللہ سے راضی رہنا ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ ہم اہل بیت کی رضا وہی ہے جو اللہ کی مرضی ہے۔ اسی طرح آپ نے زندگی کے آخری لمحہ میں بھی اللہ سے یہی مناجات کی کہ پالنے والے! تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں تیرے فیصلے پر راضی ہوں۔

 

Add new comment