حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام کی چالیس حدیثیں

حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام کی چالیس حدیثیں

- قال الامام علىّ بن موسى الرّضا (عليه السلام) :

مَنْ زارَ قَبْرَ الْحُسَيْنِ عليه السلام بِشَطِّ الْفُراتِ، كانَ كَمَنْ زارَ اللهَ فَوْقَ عَرْشِهِ. 1

1- جو فرات کے کنارے حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرے گویا کہ اس نے عرش پر اللہ کی زیارت کی ہے.

 

2- كَتَبَ (عليه السلام): أبْلِغْ شيعَتى: إنَّ زِيارَتى تَعْدِلُ عِنْدَاللهِ عَزَّ وَ جَلَّ ألْفَ حَجَّة، فَقُلْتُ لاِبى جَعْفَر (عليه السلام): ألْفُ حَجَّة؟!

قالَ: إى وَاللهُ، وَ ألْفُ ألْفِ حَجَّة، لِمَنْ زارَهُ عارِفاً بِحَقِّهِ. 2

2- امام نے اپنے ایک چاہنے والے کے پاس خط لکھا کہ: میرے شیعوں تک یہ بات پہنچادو کہ میری زیارت اللہ کے نزدیک ہزار حج کے برابر ہے راوی نے کہا: ہزار حج کے برابر؟ امام نے فرمایا ہاں خدا کی قسم دس لاکھ حج کے برابر ثواب ہے جو میرے بابا کی زیارت معرفت کے ساتھ بجالائے

 

3- قالَ (عليه السلام): أوَّلُ ما يُحاسَبُ الْعَبْدُ عَلَيْهِ، الصَّلاةُ فَإنْ صَحَّتْ لَهُ الصَّلاةُ صَحَّ ماسِواها، وَ إنْ رُدَّتْ رُدَّ ماسِواها. 3

3- جس چیز کا سب سے پہلے بندے سے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے کہ اگر نما ز صبح و مقبول ہوئی تو اس کے سارے اعمال صبح و مقبول ہوجائیں گے اور اگر نماز رد کردی گئی تو سارے اعمال رد کردئے جائیں گے

 

5- قالَ (عليه السلام): الصَّلاةُ قُرْبانُ كُلِّ تَقىّ. 4

5- نماز ہر پرہیز گار کو خدا سے نزدیک کرنے والی ھے

 

6- قالَ (عليه السلام): يُؤْخَذُ الْغُلامُ بِالصَّلاةِ وَ هُوَ ابْنُ سَبْعِ سِنينَ. 5

6- بچوں کو سات سال کے سن میں نماز کا پابند بناوں؟

 

8- قالَ (عليه السلام): رَحِمَ اللهُ عَبْداً أحْيى أمْرَنا، قيلَ: كَيْفَ يُحْيى أمْرَكُمْ؟ قالَ: يَتَعَلَّمُ عُلُومَنا وَيُعَلِّمُها النّاسَ. 6

8- خدا اس بندے پر رحمت نازل کرے جو ہمارے امر کو زندہ رکھتا ہے سوال کیا گیا کہ کس طرح آپ کے امر کو زندہ رکھا جاسکتا ہے؟ فرمایا: ہمارے علوم کو سیکھ کر لوگوں کو سکھائے

 

9- قالَ (عليه السلام): لَتَأمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَتَنْهُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ، اَوْلَيَسْتَعْمِلَنَّ عَلَيْكُمْ شِرارُكُمْ، فَيَدْعُو خِيارُكُمْ فَلا يُسْتَجابُ لَهُمْ. 7

9- اگر تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو گے تو خیر ورنہ تمہارے اوپر تم میں برے لوگ غلبہ حاصل کرلیں گے اس وقت اچھے لوگ دعا بھی کریں گے تو ان کی دعا قبول نہیں کی جائے گی

 

10- قالَ (عليه السلام): مَنْ لَمْ يَقْدِرْ عَلى مايُكَفِّرُ بِهِ ذُنُوبَهُ، فَلْيَكْثُرْ مِنْ الصَّلوةِ عَلى مُحَمَّد وَآلِهِ، فَإنَّها تَهْدِمُ الذُّنُوبَ هَدْماً. 8

10. اس کے پاس گناہان کبیرہ کی تلافی و کفارہ کے لئے کچھ نہیں ہے اسے چاہیئے کہ محمد وآل محمد علیہم السلام پر کثرت سے درود بھیجے کہ درود گناہوں کو محو کردیا کرتا ہے

 

11- قالَ (عليه السلام): الصَّلوةُ عَلى مُحَمَّد وَ آلِهِ تَعْدِلُ عِنْدَاللهِ عَزَّ وَ جَلَّ التَّسْبيحَ وَالتَّهْليلَ وَالتَّكْبيرَ. 9

11- محمد وآل محمد پر درود و سلام اللہ کے نزدیک تسبیح و تہلیل و تکبیر کے برابر ہے

 

12- قالَ (عليه السلام): لَوْخَلَتِ الاْرْض طَرْفَةَ عَيْن مِنْ حُجَّة لَساخَتْ بِأهْلِها. 10

12- اگر زمین پلک جھپکنے بھر کے لئے حجت خدا سے خالی ہوجائے تو اپنے اوپر سے تمام لوگوں کے ساتھ تباہ ہوجائے گی

 

13- قالَ (عليه السلام): عَلَيْكُمْ بِسِلاحِ الاْنْبياءِ، فَقيلَ لَهُ: وَ ما سِلاحُ الاْنْبِياءِ؟ يَا ابْنَ رَسُولِ الله! فَقالَ (عليه السلام): الدُّعاءُ. 11

13- تمہیں چاہئے کہ انبیاءکے ہتھیار سے آراستہ ہوجاو

¿ پوچھا گیا کہ ای فرزند رسول! انبیاءکا ہتھیار کیا تھا؟ فرمایا: دعا

14- قالَ (عليه السلام): صاحِبُ النِّعْمَةِ يَجِبُ عَلَيْهِ التَّوْسِعَةُ عَلى عَيالِهِ. 12

14- نعمت والے کو چاہئے کہ اپنے اہل و عیال پر وسعت و رفاہ سے کام لے

 

15- قالَ (عليه السلام): المَرَضُ لِلْمُؤْمِنِ تَطْهيرٌ وَ رَحْمَةٌ وَلِلْكافِرِ تَعْذيبٌ وَ لَعْنَةٌ، وَ إنَّ الْمَرَضَ لا يَزالُ بِالْمُؤْمِنِ حَتّى لا يَكُونَ عَلَيْهِ ذَنْبٌ. 13

15- مومن کے لئے بیماری گناہوں سے پاکیزگی اور رحمت کا باعث ہے او رکافر کے لئے بیماری عذاب اور پٹھکار ہے مومن کو مرض لاحق رہتا ہے یہاں تک اس کے اوپر ایک بھی گناہ باقی نہیں رہ جاتا۔

 

17- قالَ (عليه السلام): إنَّما يُرادُ مِنَ الاْمامِ قِسْطُهُ وَ عَدْلُهُ، إذا قالَ صَدَقَ، وَ إذا حَكَمَ عَدَلَ، وَ إذا وَعَدَ أنْجَزَ. 14

17- امام سے عدل و انصاف کی توقع رکھی جاتی ہے اگر بولے تو سچ بولے فیصلہ سنائے تو عدل و انصاف سے کام لے اور وعدہ کرے تو وفا کرے

 

18- قالَ (عليه السلام): لا يُجْمَعُ الْمالُ إلاّ بِخَمْسِ خِصال: بِبُخْل شَديد، وَ أمَل طَويل، وَ حِرص غالِب، وَ قَطيعَةِ الرَّحِمِ، وَ إيثارِ الدُّنْيا عَلَى الْآخِرَةِ. 15

18- مال بغیر پانچ صفتوں کے جمع نہیں ہوسکتا شدید بخل کے ساتھ، طویل آرزو کے ساتھ، زیادہ حرض کے ساتھ، قطع رحم کے ساتھ اور دنیا کو آخرت پرترجیح دینے کے ساتھ۔

 

19- قالَ (عليه السلام): لَوْ أنَّ النّاسَ قَصَّرَوا فِى الطَّعامِ، لاَسْتَقامَتْ أبْدانُهُمْ. 16

19- اگر لوگ کھانے میں کوتاہی کرنے لگیں تو ان کے بدن صحت یافتہ اور تندرست ہوجائیں گے

 

22- قالَ (عليه السلام): السَّخيُّ يَأكُلُ طَعامَ النّاسِ لِيَأكُلُوا مِنْ طَعامِهِ، وَالْبَخيلُ لا يَأكُلُ طَعامَ النّاسِ لِكَيْلا يَأكُلُوا مِنْ طَعامِهِ.17

22- سخی لوگوں کے کھانے میں سے کھاتا ہے تاکہ لوگ اسی کا کھانا کھائیں اور بخیل لوگوں کا کھانا نہیں کھاتا تاکہ لوگ اس کا کھانہ نہ کھائیں۔

 

23- قالَ (عليه السلام): شيعَتُنا المُسَّلِمُونَ لاِمْرِنا، الْآخِذُونَ بِقَوْلِنا، الْمُخالِفُونَ لاِعْدائِنا، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ كَذلِكَ فَلَيْسَ مِنّا. 18

23- ہمارے شیعہ ہمارے امر کو تسلیم کرنے والے ہمارے اقوال کو اخذ کرنے والے ہمارے دشمنوں کے مخالف ہوتے ہیں پس جو ایسا نہ ہو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

 

24- قالَ (عليه السلام) مَنْ تَذَكَّرَ مُصابَنا، فَبَكى وَ أبْكى لَمْ تَبْكِ عَيْنُهُ يَوْمَ تَبْكِى الْعُيُونُ، وَ مَنْ جَلَسَ مَجْلِساً يُحْيى فيهِ أمْرُنا لَمْ يَمُتْ قَلْبُهُ يَوْمَ تَمُوتُ الْقُلُوبُ. 19

24- جو ہماری مصیبتوں یاد کرکے روئے اور رلائے جس روز ساری آنکھیں اشکبار ہونگی اس کی آنکھ نہیں روئے گی اور ایسی نشست میں بیٹھے جہاں ہمارا ذکر ہورہا ہو (جہاں ہمارے امر کا تذکرہ ہو رہا ہو تو جس روز سارے دل مردہ ہونگے اس کا دل مردہ نہ ہوگا

 

25- قالَ (عليه السلام): الْمُسْتَتِرُ بِالْحَسَنَةِ يَعْدِلُ سَبْعينَ حَسَنَة، وَ الْمُذيعُ بِالسَّيِّئَةِ مَخْذُولٌ، وَ الْمُسْتَتِرُ بِالسَّيِّئَةِ مَغْفُورٌ لَهُ. 20

25- پوشیدہ نیکی،ستر نیکیوں کے برابر ہے آشکارا گناہ کرنے والا گھاٹے میںہے اور پوشیدہ گناہ معاف کردیا جاتا ہے

 

26- أنَّهُ سُئِلَ مَا الْعَقْلُ؟ فَقالَ (عليه السلام): التَّجَرُّعُ لِلْغُصَّةِ، وَ مُداهَنَةُ الاْعْداءِ، وَ مُداراةُ الاْصْدِقاءِ. 21

26- امام سے پوچھا گیا کہ عقل کیاہے؟ فرمایا: سختیوں کا گھونٹ پی جانا، دشمنوں سے مل کر رضا، دوستوں سے مدارات کرنا

 

28- قالَ (عليه السلام): لا تَتْرُكُوا الطّيبَ فى كُلِّ يَوْم، فَإنْ لَمْ تَقْدِرُوا فَيَوْمٌ وَ يَوْمٌ، فَإنْ لَمْ تَقْدِرُوا فَفى كُلِّ جُمْعَة. 22

28- ہر روز خوشبو لگانا ترک نہ کرو اگر روز آنا نہ کرسکو تو ایک دن چھوڑ کر لگاوں اور اگر اس کا بھی امکان نہ ہوتو ہر جمعہ خوشبو لگاوں

 

29- قالَ (عليه السلام): إذا كَذِبَ الْوُلاةُ حُبِسَ الْمَطَرُ، وَ إذا جارَالسُّلْطانُ هانَتِ الدَّوْلَةِ، وَ إذا حُبِسَتِ الزَّكاةُ ماتَتِ الْمَواشى. 23

29- کام جھوٹ بولیں گے تو بارش نہیں ہوگی اگر بادشاہ ظلم کرے گا تو حکومت کمزور ہوجائے گی اگر زکواة ادانہ کی جائے گی تو جانور مرجائیں گے

 

30- قالَ (عليه السلام): الْمَلائِكَةُ تُقَسِّمُ أرْزاقَ بَنى آدَمِ ما بَيْنَ طُلُوعِ الْفَجْرِ إلى طُلُوعِ الشَّمْسِ، فَمَنْ نامَ فيما بَيْنَهُما نامَ عَنْ رِزْقِهِ. 24

30- فرشتے طلوع فخر سے طلوع آفتاب تک فرزندان آدم کا رزق تقسیم کرتے ہیں لہٰذا جو ان مدت کے دوران سوتا رہے گا وہ در حقیقت اپنے رزق محرومی کے اسباب فراہم کر رہا ہے

 

31- قالَ (عليه السلام): مَنْ فَرَّجَ عَنْ مُؤْمِن فَرَّجَ اللهُ قَلْبَهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ. 25

31- جو کسی مومن کو خوش کردے خدا بروز قیامت اس کے دل کو خوش کردے گا

 

33- قالَ (عليه السلام): لا يَكُونُ الْمُؤْمِنُ مُؤْمِناً إلاّ أنْ يَكُونَ فيهِ ثَلاثُ خِصال: سُنَّةٌ مِنَ اللهِ وَ سُنَّةٌ مِنْ نَبيِّهِ وَ سُنَّةٌ مِنْ وَليّهِ، أمَّا السَّنَّةُ مِنَ اللهِ فَكِتْمانُ السِّرِّ، أمَّا السُّنَّةُ مِنْ نَبِيِّهِ مُداراةُ النّاسِ، اَمَّا السُّنَّةُ مِنْ وَليِّهِ فَالصَّبْرُ عَلَى النائِبَةِ. 26

33- کوئی مومن واقعی اس وقت تک نہیں بن سکتا جب تک کہ اس کے اندر تین صفتیں نہ پیدا ہوجائیں ایک اللہ کی صفت ایک اس کے رسول کی صفت اور ایک اس کے ولی و امام کی صفت صفت خدا کتمان اسرار ہے صفتِ رسول لوگوں کے ساتھ مدارات ہے اور صفت ولی خدا مصیبت پر صبر کرنا ہے۔

 

34- قالَ (عليه السلام): إنَّ الصَّمْتَ بابٌ مِنْ أبْوابِ الْحِكْمَةِ، يَكْسِبُ الْمَحَبَّةَ، إنَّهُ دَليلٌ عَلى كُلِّ خَيْر. 27

34- خاموشی جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جو محبت جلب کرتی ہے اور ہر نیکی کی رہنما بن جاتی ہے

 

35- قالَ (عليه السلام): مِنَ السُّنَّةِ التَّزْويجُ بِاللَّيْلِ، لاِنَّ اللهَ جَعَلَ اللَّيْلَ سَكَناً، وَالنِّساءُ إنَّماهُنَّ سَكَنٌ. 28

35- خدا کے لئے غضبناک ہوا کروا ور وہ جتنا اپنے حق میں غضبناک ہوتا ہے اس سے زیادہ غضبناک ہونے کی کوشش نہ کرو

 

38- قالَ (عليه السلام): انَّما تَغْضَبُ للهِِ عَزَّ وَ جَلَّ، فَلا تَغْضَبْ لَهُ بِأكْثَرَ مِمّا غَضِبَ عَلى نَفْسِهِ.29

38- رات میں ازدواج کرنا سنت ہے کیونکہ اللہ نے رات کو باعث سکون قرار دیا ہے اور عورتیں بھی سکون کا باعث ہیں

 

40- قالَ (عليه السلام): مَنْ تَرَكَ السَّعْيَ فى حَوائِجِهِ يَوْمَ عاشُوراء، قَضَى اللهُ لَهُ حَوائجَ الدُّنْيا وَ الاْخِرَةِ، وَ قَرَّتْ بِنا فِى الْجِنانِ عَيْنُهُ. 30

40- جو بروز عاشورا، اپنی ضرورت کو پورا کرنے کی سعی و کوشش سے ہاتھ کھینچ لے گا خداوند متعال اس کی دنیا وآخرت کی حاجتوں کو پورا کردے گا اور جنت میں اس کی آنکھوں کو (اہل بیت علیہم السلام کے دیدار سے) قرار حاصل ہوجائے گا

 

منابع و مآخذ

1 - مستدرك الوسائل: ج 10، ص 250، ح 38.

2 - مستدرك الوسائل: ج 10، ص 359، ح 2.

3 - مستدرك الوسائل: ج 3، ص 25، ح 4.

4 - وسائل الشّيعة: ج 4، ص 43، ح 4469.

5 - وسائل الشّيعة: ج 21، ص 460، ح 27580.

6 - بحارالأنوار: ج 2، ص 30، ح 13.

7 - الدّرّة الباهرة: ص 38، س 3، بحار: ج 75، ص 354، ح 10.

8 - جامع الأخبار ص 59، بحارالأنوار: ج 91، ص 47، ح 2.

9 - أمالى شيخ صدوق ص 68، بحارالأنوار: ج 91، ص 47، ضمن ح 2.

10 - علل الشّرايع: ص 198، ح 21.

11 - بصائرالدّرجات: جزء 6، ص 308، باب 8، ح 5.

12 - وسائل الشّيعة: ج 21، ص 540، ح 27807.

13 - بحارالأنوار: ج 78، ص 183، ح 35، ثواب الأعمال: ص 175.

14 - الدّرّة الباهرة: ص 37، س 13، بحار: ج 75، ص 354، س 5.

15 - وسائل الشّيعة: ج 21، ص 561، ح 27873.

16 - مستدرك الوسائل: ج 2، ص 155، ح 30.

17 - مستدرك الوسائل: ج 15، ص 358، ح 8.

18 - جامع أحاديث الشّيعة: ج 1، ص 171، ح 234، بحار: ج 65، ص 167، ح 24.

19 - وسائل الشّيعة: ج 14، ص 502، ح 19693.

20 - وسائل الشّيعة: ج 16، ص 63، ح 20990.

21 - أمالى شيخ صدوق: ص 233، ح 17.

22 - مستدرك الوسائل: ج 6، ص 49، ح 6.

23 - أمالى شيخ طوسى: ص 82، مستدرك الوسائل: ج 6، ص 188، ح 1.

24 - وسائل الشّيعة: ج 6، ص 497، ح 6533.

25 - اصول كافى: ج 2، ص 160، ح 4، وسائل الشّيعة: ج 16، ص 372، ح 6.

26 - بحارالأنوار: ج 75، ص 334، ح 1، مستدرك الوسائل: ج 9، ص 37، ح 10138.

27 - مستدرك الوسائل: ج 9، ص 16، ح 10073

28 - وسائل الشّيعة: ج 3، ص 91، ح 22040.

29 - عيون أخبارالرّضا(عليه السلام): ج 1، ص 292، ح 44.

30 - عيون أخبارالرّضا(عليه السلام): ج 1، ص 299، ح 57.