شہادت امام کی نوعیت

مجھ سے کہا کہ اسے اپنے دونوں ہاتھ میں مل لو ۔ میں نے ایسا ہی کیا، پھر مجھے میرے حال پر چھوڑ کر اٹھ گیا، امام رضا کے پاس جا کر

امام کے واقعۂ شہادت کو مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے ۔ 
١ روایت میں عبد اللہ بن بشیر کا بیان ہے کہ مجھے مامون نے حکم دیا کہ اپنے ناخن بڑھانے کی عادت ڈال لو ں اور کسی پر اپنے لمبے ناخن ظاہر نہ کروں ، میں نے ایسا ہی کیا، پھر مجھے بلالیا اور کوئی چیز مجھے دی جو املی کے مانند تھی ، مجھ سے کہا کہ اسے اپنے دونوں ہاتھ میں مل لو ۔ میں نے ایسا ہی کیا، پھر مجھے میرے حال پر چھوڑ کر اٹھ گیا، امام رضا کے پاس جا کر پوچھا : آپ کا کیا حال ہے ؟ 
امام نے فرمایا : بھلائی کا امیدوار ہوں ۔ 
مامون نے کہا : میں بھی آج بحمد اللہ بہتر ہوں کیا آج کوئی غلام یا آپ کا عقیدتمند آیا تھا ؟ 
حضرت نے فرمایا : نہیں ۔
مامون غصے میں لال ہو گیا، اپنے غلاموں کو پکارنے لگا ( کہ کیوں امام کی خدمت میں حاضری نہ دی )۔
عبد اللہ بن بشیر کہتا ہے : مامون نے اس درمیان مجھ سے کہا : میرے واسطے انار لے آؤ، میں نے چند انار لا کر دئے ،مامون نے مجھ سے کہا : اپنے ہاتھ سے اس کو نچوڑو ۔ میں نے نچوڑا تو وہ آب انار لیکر امام کی خدمت میں پہونچا اور اپنے ہاتھوں سے پلایا ، یہی آپ کی وفات کا سبب ہے، اس جوس کو پینے کے بعد امام دو روز سے زیادہ زندہ نہ رہے ۔ 
ابو صلت ہروی کہتا ہے : جیسے ہی مامون امام کے پاس سے گیا میں آپ کی خدمت میں پہونچا ۔ 
امام نے مجھ سے فرمایا : 
اے ابا صلت! ان لوگوں نے اپنا کام کر دیا ۔ 
اسی حالت میں آپ کی زبان سے حمد خدا جاری تھی ۔
یہی روایت تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ عیون الاخبار میں بھی ہے ۔ 
٢ روایت ہے کہ محمد بن جہم کہتا ہے : امام رضا انگور پسند کرتے تھے تھوڑے سے انگور مہیا کئے گئے ، ان کے ریشوں میں سوئی سے کچھ دنوں تک زہر بجھایا گیا، پھر ان سوئیوں کو نکال لیا گیا ۔ اور اسے امام کی خدمت میں پیش کیا گیا ، آپ چونکہ بیمار تھے، انہیں نوش فرمایا اور یہی سبب شہادت ہوا ۔ 
علی بن حسین کاتب سے نقل ہے کہ امام رضا بخار میں مبتلا ہوئے اور صاحب فراش تھے کہ آپ نے فصد کا ارادہ کیا ( رگ کھلوا کر بدن کا خون کم کرنا چاہا )مامون نے اس موقعے سے فائدہ اٹھایا ، اپنے ایک غلام کو حکم دیا کہ اپنے ناخن کچھ عرصے تک نہ کٹوائے تاکہ بڑھ جائیں، پھر ایسے زہر سے جو املی کے مانند تھا اس غلام کو دیا کہ اسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے انہیں اپنے ناخنوں میں بھر لے ،اس کے بعد اپنے ہاتھ نہ دھوئے اور اس بات کو کسی پر ظاہر نہ کرے ۔
اس درمیان مامون حضرت امام رضا کی عیادت کے لئے گیا، تھوڑی دیر تک وہاں موجود رہا ، جب فصد کھولی گئی تو اس نے اپنے اسی غلام کو حکم دیا کہ امام کے باغ سے کچھ انار اپنے ہاتھوں سے توڑ کر لائے ، وہ انار توڑ کر لے آیا ۔ مامون نے اس سے کہا : اپنے ہاتھوں سے نچوڑ کر ایک برتن میں رکھ دے، اس نے ایسا ہی کیا، مامون نے وہ جوس امام کے سامنے پیش کر کے کہا : اسے نوش فرمایئے ۔ 
امام نے فرمایا: جب تم چلے جاؤ گے تو اسے پی لوں گا، مامون نے بہت اصرار کیا کہ خدا کی قسم! آپ کو میرے سامنے پینا پڑے گا ، امام نے تھوڑا سا پی لیا ، اور مامون چلا گیا ۔ ہم نے ابھی نماز عصر نہیں پڑھی تھی کہ دیکھا امام کا حال منقلب ہے ، وہ شدت درد سے پچاس بار کمرے سے باہر گئے اور آئے . اس قدر درد بڑھ گیا تھا کہ صبح تک شہادت ہو گئی ۔ 
اس طرح سے مامون نے بیمار امام کو زہر دیا، واقعی اس نے عجیب مہمان نوازی اور تیمارداری کی ۔ 
تذکرة سبط بن جوزی میں ہے ،امام رضا حمام گئے جب باہر آئے تو آپ کی خدمت میں انگور کا طبق پیش کیا گیا ان انگوروں میں سوئی کے ذریعے زہر ملایا گیا تھا، امام نے اسے تناول فرمایا اور وہی آپ کی وفات کا سبب ہوا ۔ 
امام کے خادم یاسر کا بیان ہے کہ جب امام کے وفات کا وقت آیا تو آخری گھڑیوں میں آپ بہت کمزور ہو گئے تھے ، آپ نے نماز ظہر پڑھ کے مجھ سے فرمایا: 
کیا غلاموں اور خدمتگاروں نے کھانا کھا لیا ؟ میں نے عرض کی : حضور ! آپ کا یہ حال ہے ، ایسے میں کون کھانا کھائے گا ؟ 
امام اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا: دسترخوان بچھاؤ ۔ پھر آپ نے تمام خدمتگاروں کو دسترخوان پر بٹھایا اور خود اس کے ایک گوشے میں بیٹھ گئے اور ایک ایک کے کھانے پر خصوصی توجہ فرمانے لگے، اس کے بعد آپ کے حکم سے عورتوں کی غذا کا انتظام کیا گیا ، جب سب نے کھانا کھا لیا تو امام بیہوش ہو گئے ، آپ پر کمزوری کا غلبہ ہوا ، حاضرین نے صدائے نالۂ و شیون بلند کیا ، مامون بھی دکھاوے کے لئے رونے لگا ، آنسو اس کے رخساروں پر بہہ رہے تھے وہ افسوس ظاہر کر رہا تھا ، آپ کے بالائے سر کھڑا تھا کہ امام کو ہوش آیا ، آپ نے مامون سے فرمایا: 
ابو جعفر ( امام محمد تقی )کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا ، رات کا تھوڑا حصہ گذرا تھا کہ آپ کی وفات ہوئی ۔ 
ابو صلت کی روایت اور امام جواد 
ایک دوسری روایت میں ہم کو ملتا ہے کہ امام رضا نے ابو صلت سے فرمایا: 
کل میں اس بدکردار (مامون )کے پاس جاؤں گا ، اگر میں سر برہنہ رہوں تو مجھ سے بات کرنا ، میں تمہاری بات کا جواب دوں گا ۔ اور اگر سر ڈھانک کر آؤں تو مجھ سے بات نہ کرنا ۔ 
ابو صلت کہتا ہے : دوسرادن آیاجب آپ نے باہر جانے کا لباس پہنا اور محراب عبادت میں بیٹھ گئے ، آپ انتظار کر رہے تھے کہ اچانک مامون کا غلام آیا اور امام سے کہنے لگا : امیر المومنین نے آپ کو بلایا ہے ابھی تشریف لے چلئے ،امام نے عبا اوڑھی ،جوتے پہنے اور اٹھ کر مامون کے گھر تشریف لے گئے ،میں آپ کے بعد ہی وہاں چلا ،امام مامون کے پاس پہونچ گئے تھے ،میں نے دیکھا کچھ انگور اور دوسرے میوے مامون کے سامنے رکھے ہیں ، مامون کے ہاتھ میں ایک خوشۂ انگور تھا جس میں سے تھوڑا سا اس نے کھا لیا تھا اور تھوڑا باقی تھا ۔ جس وقت مامون نے امام کو دیکھا تو تعظیم میں کھڑا ہو گیا اور بڑے احترام کے ساتھ آپ سے گلے ملا، حضرت کے دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیکر اپنے پہلو میں بٹھالیا، پھر وہی خوشہ جو اس کے ہاتھ میں تھا امام کی طرف بڑھا کر کہا : 
فرزند رسول ! اس سے بہتر انگور میں نے نہیں دیکھا ،اسے تناول فرمائیے ۔ 
امام نے فرمایا : کتنے ہی انگور بہشت میں ہیں جواس سے بہتر ہیں ۔ 
مامون نے کہا : آپ کو حتماً کھانا ہی ہو گا ،ہو سکتا ہے کہ آپ اسے نہیں کھائیں اور میرے اوپر اتہام رکھیں حالانکہ میں آپ سے بہت خلوص رکھتا ہوں ۔ 
مامون نے اس خوشۂ انگور کو حضرت کے ہاتھ سے لیکر ان دانوں کو جنہیں وہ پہچانتا تھا کہ اس میں زہر نہیں ہے کھا لیا ، دوبارہ حضرت کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا :اسے کھایئے ۔ 
امام نے اس میں تین دانے کھائے ،اس کے تھوڑی ہی دیر بعد حضرت کی حالت دگرگوں ہونے لگی، بقیہ خوشۂ انگور کو زمین پر پھینک دیا اور اسی وقت واپس جانے کے لئے اٹھ گئے ۔ 
مامون نے پوچھا : کہاں جارہے ہیں ؟ 
امام نے فرمایا : '' اليٰ حیث وجّھتنی '' ( جہاں تو مجھے بھیج رہا ہے)
امام اپنے سر کو چھپائے ہوئے (عبا سر پر ڈالے ہوئے تھے )باہر آئے میں نے ان کے ارشاد کے مطابق بات نہیں کی، یہاں تک کہ آپ گھر میں تشریف لے گئے اور فرمایا: دروازہ بند کر دو اور پھر دروازہ بند کر دیا گیا ، اس کے بعد آپ بستر پر دراز ہو گئے اور میں گھر کے صحن میں غمگین و اداس بیٹھ گیا ۔ اتنے میں ایک خوبصورت جوان جس کے بال گھونگھریالے تھے ۔ اسے دیکھا ۔ وہ امام رضا سے بہت زیادہ مشابہ تھا ، میں ان کی طرف لپکا اور کہا : دروازہ بند ہے کہاں جارہے ہیں ؟ 
فرمایا : جس خدا نے مجھے مدینے سے یہاں پہونچایا ہے وہ مجھے دروازہ بند ہونے کے باوجود گھر میں پہونچا دے گا۔ 
میں نے پوچھا : آپ کون ہیں ؟ 
فرمایا :'' انا حجّة اللّہ علیک یا ابا صلت ٍ'' ( ابو صلت ! میں حجة خدا ہوں )میں محمد بن علی ہوں ۔ پھر آپ والد ماجد کے پاس بڑھ گئے ۔ کمرے میں داخل ہو کر مجھ سے فرمایا :تم بھی کمرے میں آجاؤ ۔ 
جس وقت امام رضا نے انہیں دیکھا لپک کر جوان کی گردن میں بانہیں حمائل کر دیں اور اپنی آغوش میں چمٹا لیا ، پھر دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیکر اپنے بستر پر لٹا لیا ۔ 
امام جوا د نے خود کو پدربزگوار پر ڈال دیا اور بوسہ دینے لگے ۔ اس درمیان امام رضا نے آپ کو اسرار امامت تفویض کئے اور کچھ ایسی باتیں کہہ رہے تھے جنہیں میں نہ سمجھ سکا، اسی حال میں امام رضا فرزند کی آغوش میں دنیا سے گذر گئے ۔ 
ابو صلت کا بیان ہے : امام جواد نے مجھ سے فرمایا : اٹھو اور اس خزانے کے اندر جا کر وہاں سے پانی اور تخت لے آؤ ۔ 
میں نے عرض کی : وہاں پانی اور تخت نہیں ہے، فرمایا : میں جو کہہ رہا ہوں کرو ۔ 
میں خزانے کے اندر گیا تو پانی اور تخت دیکھا اسے لیکر آپ کی خدمت میں حاضر کیا اور غسل دینے کی تیاری کرنے لگا۔
امام جواد نے مجھ سے فرمایا : تم یہاں سے الگ ہو جاؤ ،کچھ لوگ غسل میں میری مدد کریں گے ۔ آپ نے غسل دیکر مجھ سے فرمایا: جاؤ اس خزانے سے کفن اور حنوط لے آؤ ، وہاں پہونچا تو ایک گلدستے میں کفن اور حنوط رکھا ہوا تھا لا کر امام کی خدمت میں پیش کیا ۔امام نے حنوط کیا اور کفن پہنایا ۔ پھر آپ نے جنازے پر نماز پڑھی اس کے بعد فرمایا : تابوت لے آؤ ۔ 
میں نے عرض کی : بڑھئی کے پاس جانا پڑے گا ۔ 
فرمایا : خزانے کے اندر سے لے آؤ ۔ 
میں گیا تو دیکھا کہ تابوت رکھا ہوا ہے ۔ جبکہ اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ، امام نے اس تابوت میں جنازہ رکھ دیا ۔ 
اس درمیان مامون اپنے غلاموں کے ساتھ آگیا ۔ وہ لوگ رورہے تھے اور اظہار تاسف کر رہے تھے .۔ 
یہاں یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ امام رضا نے اپنے گھر والوں سے وداع کے وقت مدینے میں فرمایا تھا ۔ 
اب تم لوگ جی بھر کے مجھ پر گریہ کر لو ، میں اس سفر سے دوبارہ واپس نہیں آؤں گا ۔ 
لیکن امام حسین نے اپنے اہلحرم سے فرمایا تھا: ''اسکتن فانّ البکاء امامکنّ '' ( خاموش رہو گریہ تمہارے آگے ہے)
اور سکینہ سے فرمایا : جب تک جسم میں جان ہے گریہ کر کے میرا دل نہ جلاؤ ، جب میں قتل کر دیا جاؤں تو جو بھی میرے جسد کے قریب آئے مجھ پر گریہ کر لے ۔ اے برگزیدگان حرم ! 
امام کی اس فرمائش کا سبب یہ تھا کہ آپ جانتے تھے کہ شہادت کے بعد دل گداز مصائب پیش آئیں گے، اہلحرم کو ان مصائب کے لئے اپنے آنسو ذخیرہ کرنا چاہئے ، جو بہرحال ان پر وارد ہوں گے ۔