طالبان نے 67 اہم شخصیات کو قتل کرنے کا منصوبہ بنالیاہے

حالیہ جنگ بندی کی مدت کے خاتمہ کے بعد کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے دہشت گردی کے حوالے سے ایک نئے منصوبے کا انکشاف ہوا ہے

ٹی وی شیعہ[ملٹی میڈیا ریسرچ رپورٹ]حالیہ جنگ بندی کی مدت کے خاتمہ کے بعد کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے دہشت گردی کے حوالے سے ایک نئے منصوبے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے مطابق طالبان نے 67 اہم شخصیات کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ کالعدم تحریک طالبان نے جن اہم شخصیات کو اپنا ٹارگٹ بنانے کا پروگرام تشکیل دیا ہے، ان میں وزیراعظم میاں نواز شریف، وزیراعلٰی پنجاب کے فرزند میاں حمزہ شہباز شریف، ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما فاروق ستار، سابق وزیراعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی، پاکستان عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد اور بیوروکریسی میں سے اہم افسران کو نشانہ بنانے کا منصوبہ سامنے آیا ہے۔ ان اہم افسروں میں سیکرٹری داخلہ پنجاب میجر ریٹائرڈ اعظم سلمان کا نام بھی شامل ہے۔ دہشت گردوں نے غیر ملکیوں اور میڈیا کے دفاتر کو بھی نشانہ بنانے کی پلاننگ کی ہے۔

ذرائع کے مطابق طالبان کی قیادت نے مکمل ٹریننگ حاصل کرنے والے دہشت گردوں کو ٹارگٹس کے حصول کے لئے روانہ کر دیا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے یہ منصوبہ بندی افغانستان کے صوبے کنہڑ میں کی گئی، جہاں مولوی فضل اللہ اور دیگر کے موجود ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ شمالی وزیرستان کے علاقے میں ایک اجلاس ہوا، جس میں افغانستان سے آنے والی ہٹ لسٹ میں مزید نام بھی شامل کئے گئے۔ ادھر محکمہ داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے ایسی اطلاعات ملتی رہتی ہیں، تاہم اہم شخصیات، میڈیا ہاؤسز، غیر ملکیوں اور اہم مقامات کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔