سعودی فوجی اتحاد:مسلمانوں کے مابین انتشارپھیلانے کی سازش

سنی اتحاد کونسل نے کہا ہے کہ سعودی فوجی اتحاد سےمسلمانوں کے مابین انتشارپھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے ٹیلی فونک گفتگو میں سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کو سعودی فوجی اتحاد کی سربراہی کے لئے این او سی جاری کرنے کا فیصلہ درست نہیں، شیعہ سنی کی بنیاد پر بننے والے اتحاد میں پاکستان کی شمولیت ملکی مفاد میں نہیں۔

سینیئر صحافی اور اینکر پرسن سیدہ عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سعودی عرب جیسا ملک فرقہ وارانہ فساد کرنے کے لئے فنڈنگ کرتا ہے، پاکستان آج ان ممالک کے فوجی اتحاد میں شامل ہوگیا ہے کہ جن کے داعش کے ساتھ تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج راحیل شریف کی قیادت میں پاکستانی فوج کا دستہ یمن کی سرحدوں پر پہنچ گیا ہے اور پاکستانی قوم کو بتائے بغیر یمن جنگ میں شامل ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان ممالک کے ساتھ اتحاد میں شامل ہوگیا ہے جن کے داعش سے تعلقات ہیں اور داعش کے جنگجو ان ممالک سے اس تنظیم میں شامل ہوئے اور جو ممالک جیسے ایران، شام، یمن اورعراق داعش سے لڑ رہے ہیں، ان ممالک کو اس اتحاد میں شامل نہیں کیا گیا۔ عاصمہ شیرازی نے کہا کہ پاکستان میں شیعہ سنی مل کر رہتے ہیں، لیکن اب کیا ہوگا کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے سابق آرمی چیف راحیل شریف اب ایک ایسے سعودی فوجی اتحاد کی قیادت سنبھالنے گئے ہیں جو سعودی وزیر دفاع اور نائب ولی عہد محمد بن سلمان کے ذہن کی پیداوار ہے جو انہوں نے دورہ امریکہ سے واپسی کے بعد تشکیل دیا لیکن بہت سے اسلامی ممالک کو نظرانداز کر دینے کے بعد محسوس ہو رہا ہے کہ یہ اتحاد دہشتگردی تو ختم نہیں کر پائے گا بلکہ مشرق وسطٰی کے سیاسی تنازعات میں الجھ کر رہ جائے گا۔