شام کی سرزمین پر امریکی شرانگیزیاں/داعش کے کیمیاوی ہتھیاروں کے گودام پر امریکی حملہ! یا پھر شام پر امریکہ کا کیمیاوی حملہ!

شام کی مسلح افواج کی مرکزی کمانڈ نے دیرالزور کے مشرقی علاقے میں بہت بڑے دھماکے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے زیر قیادت نام نہاد بین الاقوامی اتحاد کے طیاروں نے کل [بروز بدھ 12 اپریل] شام کے بوقت 17:30 اور 17:50 کے درمیان "حطلہ" نامی گاؤں میں داعش

شام کی مسلح افواج کی مرکزی کمانڈ نے دیرالزور کے مشرقی علاقے میں بہت بڑے دھماکے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے زیر قیادت نام نہاد بین الاقوامی اتحاد کے طیاروں نے کل [بروز بدھ 12 اپریل] شام کے بوقت 17:30 اور 17:50 کے درمیان "حطلہ" نامی گاؤں میں داعش کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا جہاں کرائے کے بیرونی جنگجؤوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، اس حملے کے بعد دھوئیں کے سفید بادل فضا میں چھا گئے اور معلوم ہوا کہ یہ دھواں گولہ بارود کے ایک بہت بڑے ذخیرے کے پھٹ جانے کا نتیجہ ہے جس میں بڑی مقدار میں زہریلا مواد رکھا گیا تھا جس کی وجہ سے گودام میں آگ لگ گئی، آگ کے شعلے رات 22:30 بجے تک بھڑکتے رہے اور تب جاکر آگ پر قابو پا لیا گیا۔
اس خوفناک دھماکے کے نتیجے میں دہشت گرد بھی نشانہ بنے اور عام لوگوں کی بہت بڑی تعداد بھی کام آئی۔ یہ وہ لوگ تھے جو زہریلے مواد کی وجہ سے دم گھٹ کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
شامی افواج کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح کہ ہم برسوں سے کہہ رہے ہیں کہ داعش اور جبہۃالنصرہ سمیت شام کے عوام اور حکومت کے خلاف سرگرم عمل دہشت گرد ٹولوں کے پاس کیمیاوی ہتھیاروں کے ذخائر موجود ہیں جو انہیں جانے پہچانے ممالک نے فراہم کئے ہیں اور ان کے پاس ان ہتھیاروں کی منتقلی، ذخیرہ سازی اور استعمال کی صلاحیت بھی موجود ہے اور وہ ان ہتھیاروں کو عام شہریوں کے خلاف استعمال بھی کرتے رہے ہیں۔
فوجی بیان کے مطابق، جب بھی دہشت گردوں نے اس قسم کے ہتھیار استعمال کیا شام نے ان بین الاقوامی برادری کو خبردار کیا۔
اس بیان کے مطابق، اس واقعے سے یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ دہشت گرد ٹولوں اور ان کے حامی عرب اور غیر عرب ممالک کے درمیان مکمل ہمآہنگی پائی جاتی ہے تا کہ وہ ان ہتھیاروں کے استعمال کے بعد حکومت شام ملزم ٹہرا سکیں۔
شامی افواج کے بیان میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ سرکاری افواج کے پاس کسی قسم کے کیمیاوی ہتھیار نہیں ہیں، اور خبردار کیا گیا ہے کہ مستقبل قریب میں دہشت گرد ٹولے شامی عوام کے خلاف کیمیاوی حملے کرسکتے ہیں اور پھر حال ہی میں دہشت گرد ٹولوں کو اپنے عرب حامیوں، ترکی اور مغربی ممالک سے ایسے پیغامات بھی موصول ہوئے ہیں کہ وہ اپنے کیمیاوی حملے جاری رکھیں، کہ ان [حامیوں] کے ہوتے ہوئے ان پر لگنے والے الزامات کو بین الاقوامی فورموں میں ثابت نہیں کیا جاسکے گا!
حال ہی میں صوبہ ادلب کے علاقے خان شیخون میں شامی طیاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تو وہاں بھی ایک بم دہشت گردوں کے خفیہ کیمیاوی ہتھیاروں کے گودام پر گرا اور دہشت گردوں اور امریکہ سمیت ان کے عرب اور غیر عرب حامیوں نے دعوی کیا کہ شامی افواج نے عوام پر کیمیاوی بموں سے حملہ کیا ہے جس کی دمشق نے بر وقت تردید بھی کی لیکن کچھ دن بعد امریکہ کے غیر متوازن المزاج صدر کے حکم پر شامی فضائیہ کے ایک اڈے کو 59 میزائلوں کا نشانہ بنایا گیا گوکہ زیادہ تر میزائل شام کے اینٹی میزائل سسٹم کے نرغے میں آکر فضا ہی میں پھٹ گئے۔
کچھ سوالات:
اگر خان شیخون میں دہشت گردوں کے کیمیکل ہتھیاروں کا گودام نشانہ بنا اور شام پر کیمیاوی حملے کا الزام لگا تو اب جو دیر الزور میں داعش کے کیمیکل ہتھیاروں کے ذخیرے پر امریکی حملے میں سینکڑوں نہتے شہری جان بحق ہوئے ہیں؛ اب کونسی ایسی معقول وجہ ہوسکتی ہے کہ یہ حملہ کیمیاوی حملہ نہ سمجھا جائے؟
اگر یہ حملہ کیمیاوی ہتھیاروں کے گودام پر غلطی سے ہونے والا حملہ سمجھا جاتا ہے تو پھر شامی فوج کی بمباری کو اسی قسم کا حملہ کیوں نہ سمجھا جائے؟
اگر اس حملے پر امریکہ کو بین الاقوامی سطح پر کوئی وضاحت دینے پر مجبور کرنے کی ضرورت نہيں ہے تو امریکہ نے شام کے فضائی اڈے کو 59 میزائلوں کا نشانہ کیوں بنایا؟ جبکہ شام اور روس کی افواج نے باقاعدہ اعلان کیا تھا کہ شامی طیارے داعش کے ایک اڈے کو نشانہ بنا رہے تھے لیکن بم کیمیاوی ہتھیاروں کے گودام پر گرے تھے! اور اب بالکل اسی طرح کا واقعہ یہاں رونما ہوا ہے تو کہا جا رہا ہے کہ امریکی حملے میں داعش کے کیمیاوی ہتھیاروں کا ایک گودام نشانہ بنا ہے ۔۔
ایک خاص بات یہ کہ شامی، روسی اور ایرانی افواج نے کئی مرتبہ اعلان کیا تھا کہ داعش اور دوسرے تمام دہشت گرد ٹولے کیمیاوی ہتھیاروں سے لیس ہیں اور عراق اور شام میں ان ہتھیاروں کا بےتحاشا استعمال ہوتا رہا ہے لیکن داعش سمیت دہشت گرد ٹولوں کے علاقائی عرب اور غیر ممالک نیز یورپ اور امریکہ نے ہمیشہ تغافل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے اس اندیشوں کو کبھی بھی سنجیدہ نہیں سمجھا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اول یہ کہ دہشت گرد ٹولے ان ہی انسان دشمن حکومتوں کی جانب سے اسرائیل کے تحفظ کی خاطر شام میں ان ہی کی جنگ لڑرہے ہيں اور دوئم یہ کہ کیمیاوی ہتھیاروں کے ذخائر ان ہی انسان دشمن قوتوں نے اپنے کرائے کے قاتل ٹولوں کو فراہم کئے ہیں۔

منبع:ابنا

Add new comment