سیہون میں لال شہباز قلندر کے مزار پر حملے کے سہولتکار کو گرفتار کرلیا گیا

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر سیہون میں لال شہباز قلندرکے مزار پر بم دھاکے کے مبینہ سہولت کار کو خیرپور کے نواحی علاقے سے گرفتار کرلیا گیا ہے جس سے تفتیش جاری ہے سہولتکار پہلے لشکر جھنگوی کا رکن تھا جبکہ بعد میں داعش میں شامل ہوگیا پاکستان کے اکثر وہابی دہش

ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر سیہون میں لال شہباز قلندرکے مزار پر بم دھاکے کے مبینہ سہولت کار کو خیرپور کے نواحی علاقے سے گرفتار کرلیا گیا ہے جس سے تفتیش جاری ہے سہولتکار پہلے لشکر جھنگوی کا رکن تھا جبکہ بعد میں داعش میں شامل ہوگیا پاکستان کے اکثر وہابی دہشت گرد گروہ داعش میں شامل ہوگئے ہیں۔ذرائع کے مطابق ملزم سے تفتیش کے دوران سیہون دھماکے میں شکارپور سے تعلق رکھنے والے حفیظ بروہی گروپ کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حفیظ بروہی گروپ لشکرجھنگوی چھوڑ کر داعش کے ساتھ منسلک ہوچکا ہے،یہ گروپ شکارپور بم دھماکوں میں بھی ملوث رہا ہے،خودکش بمبار افغانی تھا، جس کا جہادی نام تبدیل کیا گیا، دھماکے کے لیے خودکش جیکٹ بھی شکارپور میں تیار کی گئی۔
ابتدائی تحقیقات میں سہولت کار نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں دھماکوں کے لیے افغانیوں کا استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ افغانستان میں بم دھماکوں کے لیے پاکستانیوں کو خودکش بمبار بنایا جاتا ہے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرسکھر میں ہونے والے دھماکے میں جو کار استعمال ہوئی وہ بھی شکارپور میں تیار ہوئی تھی۔
ذرائع کے مطابق شکارپور بم دھماکوں میں ملوث ملزمان کے نام سامنے آچکے ہیں،جن دہشت گردوں کے نام سامنے آئے انہیں اب تک نہ گرفتار کیاجاسکا نہ ان کے ناموں کو ریڈ بک میں ڈالا گیا۔
ذرائع کے مطابق انتہائی خطرناک دہشت گردوں کے نام سامنے آنے کے باوجود گرفتاری پر کوئی انعام بھی مقرر نہیں کیاگیا۔ پاکستان کی وفاقی حکومت پر الزام ہے کہ وہ وہابی دہشت گردوں کو بچآنے اور انھیں تحفظ فراہم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ اور دہشت گردوں کے ہلات کے اعداد و شمار میں بھی کوئی صداقت نہیں ہے۔