ہیلری کلنٹن نے پہلی بار مناظرہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کوہرا دیا،گرما گرم بحث 

لیری کلنٹن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اپنی تمام جوانی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے لڑتے ہوئے گزاری۔ہلیری کلنٹن نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا مزاج ایسا نہیں ہے کہ وہ صدارت کا منصب سنھبال سکیں۔ہلیری کلنٹن نے کہا کہ اپنا ذاتی ای میل استعمال کرنے کی غلطی کا

امریکی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے پہلے مباحثے میں ڈونلڈ ٹرمپ کوہرا دیاامریکی ٹی وی کے پول کے مطابق 62فیصد نے ہیلری جبکہ 27فیصد نے ڈونلڈ ٹرمپ کیحق میں ووٹ دئیے۔ہیلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دوبدو مباحثے میں ہیلری نے بتایا کہ ہم نے 30 فیصد امریکی برآمدات میں اضا فہ کیا ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا میں نوکریاں ختم ہو تی جا رہی ہیں ،تجارتی اور سیاسی معاہدوں کو دوبارہ دیکھنا ہو گا۔مباحثے میں 15 -15 منٹ کے 6 سیگمینٹ رکھے گئے تھے ، ہر ا میدوار کو 2 منٹ ملے ،جس میں اسے اپنا جواب یا ردعمل دینا تھا ، ٹرمپ نے بتایا کہ جب سے اوباما اقتدار میں آئے ہیں ،4 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اس لیے ہم کو پولیس اور کمیونٹی میں تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ موجودہ پالیسیوں سے افریقی امریکی اور ہسپانوی افراد زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ہیلری نے کہا کہ غریبوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے امیروں پر ٹیکس لگا نا ہوگا ،ٹرمپ کے منصوبے غیر مساوی اور امیروں کے لیے ہیں،میرے والد چھوٹے تاجر تھے،جنھوں نے نچلی سطح سے محنت کی،میرا تجربہ ٹرمپ سے مختلف ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا میں نوکریاں ختم ہو تی جا رہی ہیں ،تجارتی اور سیاسی معاہدوں کو دوبارہ دیکھنا ہو گا میرے والد سے مجھے اتنا کچھ نہیں ملا جتنا سمجھا جا تا ہے۔میں خود سے محنت کر کے آگے بڑھا ہوں ۔ہیلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ آپ اپنی دنیا میں رہے ہیں ،نافٹاا چھی ڈیل تھی ہمیں 30 سال تو نہیں ملے مگر ہم نے خا صا کام کیا ہم نے 30 فیصد امریکی برآمدات میں اضا فہ کیا ،ہم کو توانائی کے متبادل ذرائع میں سرمایہ کاری کرنا ہو گی ۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چین اور دیگر ملکوں کے ساتھ تجارتی معاہدہ پر نظر ثانی کر نا ہو گی،وہ ہمارے ساتھ اچھا نہیں کررہے ۔ صرف ٹیکس لگا کر ہیلری کوئی بڑا کا رنامہ نہیں کرسکتیں ۔ہیلری نے بتایا کہ 8 سال پہلے بد ترین مالی بحران ہوا ،وال اسٹریٹ کو مراعات دیں مگر وہاں مسائل دیکھے ،اس بحران سے 9 ملین افراد کی نوکریاں چلی گئیں ،اب 8 سال بعد معیشت بہتر ہو ئی ہے ، نسلی امتیار بہت بڑا چیلنج ہے اور اسکولوں اور دفاتر میں یہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ توانائی کے بہتر استعمال پر یقین رکھنے والا شخص ہوں ہمیں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔30 سال تک ان معاملات پر ڈیمو کریٹ کچھ نہیں کر پائے اب سب کیسے بدل جائے گا ؟ یہ سب جھوٹ ہے۔ہیلری نے کہا کہ اس ضمن میں کئی اقدامات کرنے ہوں گے ،اقلیتوں اور کمیونیٹیز میں خلا دور کر نا ہوگا ۔ ہمیں کرمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور گن کلچر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے عام افراد کے ہاتھ میں اسلحہ آنا خطرناک ہے۔واضح رہے کہ امریکہ کے صدارتی انتخاب کی دوڑ میں شامل رپبلکن اور ڈیموکریٹ امیدواروں کے درمیان نوکریوں، نسل پرستی اور عراق جنگ کے معاملے پر گرما گرم بحث ہوئی۔حریف ڈیموکریٹس کی امیدوار ہلیری کلنٹن نے وعدہ کیا کہ اگر وہ صدارتی انتخاب میں کامیاب ہوتی ہیں تو وہ ملک میں ایک کروڑ ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں گی اور ملک میں سرمایہ کاری بڑھائیں گی۔نیویارک میں ہونے والے اس مباحثے کا شمار تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے مباحثے میں ہوتا ہے اور اسے مجموعی طور پر دس کروڑ افراد نے ٹی وی پر دیکھا۔انتخاب سے قبل جائزوں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور ہلیری کلنٹن کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔مباحثے کے دوران ٹرمپ نے امریکہ کی معیشت کی تعریف کچھ اس طریقے سے کی ہم ایک بڑے، موٹے، بدھے غبارے میں بند ہیں۔مباحثے کے منتظم لیسٹر ہالٹ کی جانب سے ٹیکس گوشواروں کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ڈونلڈ مرمپ نے محتاط رویہ اختیار کیا۔ٹرمپ نے کہا کہ اگر ان کی حریف تحقیقات کے دوران 33 ہزار حذف کی گئی ای میلز منظرِ عام لائیں گی تب وہ بھی اپنے ٹیکس گوشوارے سامنے لائیں گے۔سابق سیکریٹری خارجہ کلنٹن نے روس کے صدر ولادی میر پوتن کی تعریف کرنے پر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ٹرمپ نے ہلیری کلنٹن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اپنی تمام جوانی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے لڑتے ہوئے گزاری۔ہلیری کلنٹن نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا مزاج ایسا نہیں ہے کہ وہ صدارت کا منصب سنھبال سکیں۔ہلیری کلنٹن نے کہا کہ اپنا ذاتی ای میل استعمال کرنے کی غلطی کا کوئی بہانا نہیں ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ افریقی نژاد امریکیوں کی زندگی امریکہ میں جہنم ہے کیونکہ ان کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔سیاہ فام افراد پر پولیس کے حملوں کے بارے ٹرمپ نے کہا کہ قانون کی حکمرانی ہی اس مسئلے کا حل ہے۔ہلیری کلنٹن نے کہا کہ وہ نظامِ انصاف میں اصلاحات متعارف کروائیں گی کیونکہ بدقسمتی سے اکثر اوقات نسل سے کئی چیزوں کو محدود کر دیا جاتا ہے۔رپبلکن اور صدارتی امیدواروں کے درمیان صدر اوباما کی جائے پیدائش کے معاملے پر بھی گرما گرم بحث ہوئی۔ ٹرمپ نے کہا کہ انھیں تو بہت پہلے سے یقین ہے کہ صدر اوباما امریکہ سے باہر پیدا ہوئے ہیں۔جس کے جواب میں ہلیری کلنٹن نے کہا کہ یہ جھوٹ بہت دل توڑنے والا ہے جس سے امریکہ کے پہلے افریقی نژاد امریکی صدر کو برا بھلا کہا جا رہا ہے۔