سعودی عرب میں پھانسیوں میں اضافے کے بارے میں انتباہ

برطانوی اخبار انڈی پینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم پرپرائیو (per prive) نے اپنی ایک رپورٹ میں سعودی عرب میں پھانسیوں میں اضافے کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب نے دو ہزار سولہ کے آغاز سے لے کر اب تک بیاسی اف

برطانیہ میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے سعودی عرب میں پھانسیوں میں اضافے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
برطانوی اخبار انڈی پینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم پرپرائیو (per prive) نے اپنی ایک رپورٹ میں سعودی عرب میں پھانسیوں میں اضافے کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب نے دو ہزار سولہ کے آغاز سے لے کر اب تک بیاسی افراد کو پھانسی دی ہے اور وہ رواں سال کے اختتام تک دو ہزار پندرہ کے مقابلے میں دوگنا لوگوں کو پھانسی دینا چاہتا ہے۔ اس تنظیم نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ دو ہزار پندرہ میں سعودی عرب میں ایک سو اٹھاون افراد کو پھانسیاں دی گئیں کہ جو دو ہزار چودہ کی نسبت دوگنا زیادہ تھیں۔
اس تنظیم نے سعودی عرب کے ممتاز عالم دین شہید باقر النمر کے بھتیجے علی النمر اور دو سیاسی کارکنوں داؤد المرہون اور عبداللہ الظاہر کی ممکنہ پھانسی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہ جو جرم کے ارتکاب کے وقت کمسن نوجوان تھے، کہا ہے کہ ان افراد پر آل سعود حکومت کے خلاف اصلاح پسندانہ مظاہروں میں شرکت کا الزام ہے اور ان کو کسی بھی لمحے پھانسی دیے جانے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ آل سعود نے دو جنوری دو ہزار سولہ کو سعودی عرب کے ممتاز عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو دیگر چھیالیس افراد کے ہمراہ پھانسی دے کر شہید کر دیا تھا۔ جس پر پوری دنیا کے حریت پسندوں نے سخت احتجاج کیا تھا۔