انتہا پسند یہودیوں کی مسیحی قبرستان کی بے حرمتی

مقبوضہ بیت المقدس: فلسطین میں قابض یہودیوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے علاوہ مسیحی برادری کے مقدس مقامات بھی محفوظ نہیں رہے ہیں۔

مقبوضہ بیت المقدس: فلسطین میں قابض یہودیوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے علاوہ مسیحی برادری کے مقدس مقامات بھی محفوظ نہیں رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس کے مغربی علاقے میں واقع عیسائیوں کے ایک تاریخی قبرستان 'دیر بیت جمال' کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق عیسائی لاطینی کیتھولک چرچ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ 'دیر بیت جمال' نامی قبرستان 'سالزیان رھبان' کے زیر انتظام ہے جس کی دیکھ بحال کیھتولیک عیسائی پادری کر رہے ہیں۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ قبرستان میں موجود کئی قبروں کو اکھاڑا ہوا پایا گیا۔ اس موقع پر شرپسندوں نے قبروں کے ساتھ نصب کی گئی عیسائی مذہبی علامت صلیب بھی توڑ دی تھی اور کئی قبروں کی بے حرمتی کی گئی تھی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ قبرستان 1981 اور 2014 ء میں بھی یہودی شرپسندوں کی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بن چکا ہے۔ یہودی شرپسند قبرستان میں داخل ہونے کے بعد نہ صرف قبروں کی بے حرمتی کرتے ہیں بلکہ مذہبی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قبروں اور قبرستان کی دیواروں پر عیسائی مذہب کے خلاف اشتعال انگیز چاکنگ کرتے ہیں۔ خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب یہودی شرپسندوں نے بیت المقدس میں کسی عیسائی قبرستان کی بے حرمتی کی ہے۔ ماضی میں اس طرح کے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ کچھ ہی عرصہ پیشتر یہودی آباد کاروں نے بیت المقدس میں عیسائیوں کے ایک دوسرے قبرستان کی بے حرمتی کی تھی۔ میں کوہ داؤد علیہ السلام کے ٹیلوں کے درمیان عیسائی برادری کے ایک قدیم قبرستان پر یہودی آباد کاروں نے حملہ کر کے قبروں کی توڑ پھوڑ کی اور قبروں کے نشانات مٹاتے ہوئے بے حرمتی کرتے رہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ مسیحی برادری کے قبرستان پر حملہ کرنے والے یہودیوں کی بڑی تعداد مقامی یہودی کالونیوں میں قائم انتہاپسندوں کے مدارس اور اسکولوں سےآئی تھی۔ اسرائیلی مدارس سے آنیوالے یہودی طلبا ماضی میں بھی مسلمانوں اور مسیحی برادری کے قبرستانوں اور دیگر مقامات کی بے حرمتی کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں۔ ادھر صہیونی پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ چار یہودی شرپسند عناصر کو قبرستان میں قبروں پر لگی مرحومین کی تعارفی تختیاں اتارتے دیکھا گیا تھا۔ پولیس نے انہیں پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ موقع سے فرار میں کامیاب ہو گئے۔ اسرائیلی حکام کے ایک دوسرے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ جبل داؤد کے قریب انجیلی قبرستان کی بے حرمتی کرنے والے یہودیوں کا تعلق ایک شدت پسند تنظیم سے جسے مغربی کنارے میں اس طرح کی کارروائیوں کے بعد وہاں سے بے دخل کیا گیا تھا۔ وہاں سے بے دخلی کے بعد اس نے اب  بیت المقدس اور دوسرے مقامات پر مقدس مقامات کی بے حرمتی شروع کر دی ہے۔ 2000ء میں شروع ہونے والی فلسطینیوں کی تحریک انتفاضہ کچلنے کے لیے سابق اسرائیلی وزیراعظم ایرئیل شیرون نے بھی اس کی مدد کی تھی۔ -