حدیث غدیر کے علماء راوی

تاریخ اسلام میں دواھم اور بڑے واقعات رونما ھوئے جس کے نتیجے میں ایک سے رسالت اور دوسرے سے امامت وجود میں آئی ۔ پہلاواقعہ وحی کے نزول کا هے جو پیغمبر کی رسالت کو اپنے دامن میں ھی لئے ہوئے ھے، اوردوسرا واقعہ واقعہٴ غدیر هے جس نے امامت کو وجود عطا کیا اور

سوال: اجمالی جواب: تفصیلی جواب:

سوال : مختلف زمانوں سے جن علماء نے حدیث غدیر کو بیان کیا ہے ان کے نام بیان کریں؟
جواب : مرحوم علامہ امینی (رحمه اللہ علیہ) نے کتاب الغدیر (۱) میں دوسری صدی سے چوتھی صدی تک ۳۶۰ علماء کے نام بیان کیے ہیں جنہوں نے اس حدیث کو مختلف سندوں کے ساتھ اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے ،ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں:
۱۔ امام شافعی، ابوعبداللہ محمد بن ادریس شافعی، متوفی ۲۰۴۔ جیسا کہ ابن اثیر کی ”نہایہ“ (۲) بیان ہوا ہے کہ انہوں نے حدیث غدیر کو نقل کیا ہے (۳) ۔
۲۔ محمد بن کثیر ابوعبداللہ عبدی بصری، سلیمان بن کثیر کے بھایی جو ان سے پچاس سال بڑے تھے ۔ ابن حبان نے کہا ہے (۴):
وہ ثقہ اور فاضل تھے ۔ ۲۲۳ ہجری میں سو سال کی عمر میں انتقال ہوا ۔
۳۔ امام حنبلیان، ابوعبداللہ احمد بن حنبل شیبانی، متوفی ۲۴۱۔انہوں نے حدیث غدیر کو صحیح اسناد کے ساتھ کتاب مسند (۵) اورکتاب مناقب میں نقل کیا ہے ۔
۴۔ حافظ ابوعبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری، متوفی ۲۵۶، مشہور صحیح کے مصنف، جس کا شمار صحاح ستہ میں ہوتا ہے ، انہوں نے اس حدیث کو اپنی تاریخ کی کتاب میں ذکر کیا ہے (۶) اور عجیب بات یہ ہے کہ اپنی صحیح میں اس حدیث کو نقل نہیں کیا ہے اور اس وجہ سے ان کی کتاب کے صحیح ہونے پر علامت سوال لگ گیا ہے!۔
۵۔ حافظ محمد بن عیسی، ابو عیسی ترمذی، متوفی ۲۷۹۔ ان کا شمار صحاح ستہ کے مصنفین میں ہوتاہے اور یہ ہر طرح کی توثیق سے بے نیاز ہیں ۔
۶۔ حافظ احمد بن یحیی بلاذری متوفی ۲۷۹۔
علمایے اسلام ، ان پراور ان کی کتاب پر اعتمادکرتے ہیں، ان کی اس کتاب اور دوسری کتابوں سے اب تک حدیث کو نقل کرتے ہیں ،اس حدیث کو کتاب انساب الاشراف (۷) میں بیان کیا ہے ۔
۷۔ حافظ عبداللہ بن احمد بن حنبل، ابوعبدالرحمن شیبانی ، متوفی ۲۹۰۔ خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ (۸) میں ان کو ثقہ بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ ان میں ثبت و ضبط اور مطالب کو سمجھنے کی طاقت تھی(۹) ذہبی نے کتاب تذکرهمیں کہا ہے :
ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ بزرگان ، رجال احادیث، علل احادیث(حدیث میں موجود ضعف اور اشکالات) ، راویوں کے اسماء،طلب حدیث کے استمرارکی شناخت کے لیے عبداللہ کو مقدم کرتے تھے
۸۔ حافظ ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب نسایی، ”سنن“ کے مولف، متوفی ۳۰۳۔ ذہبی نے کتاب”تذکرہ“ (۱۰) میں دار قطنی سے اس طرح حکایت کی ہے: نسایی اپنے زمانہ میں مصر کے سب سے بڑے فقیہ تھے اورحدیث میں سب سے زیادہ آگاہ تھے ۔
انہوں نے حدیث غدیر کو کتاب سنن(۱۱) اورکتاب خصایص (۱۲) میں مختلف طرق کے ساتھ ثقہ رجال سے نقل کیا ہے ۔
۹۔ حافظ محمد بن جریر طبری ، ابوجعفر ،کتاب تفسیر اور مشہور تاریخ طبری کے مولف متوفی ۳۱۰۔ ذہبی نے کتاب تذکرہ (۱۳) میں ان کو امامت، زہد، اور دنیا سے دوری اختیار کرنے جیسے صفات سے متصف کیا ہے ،انہوں نے غدیر کے سلسلہ میں مستقل کتاب لکھی ہے ۔
۱۰۔ ابوعمر احمد بن عبد ربہ قرطبی ، متوفی ۳۲۸۔ ابن خلکان نے کتاب تاریخ (۱۴) میں ان کی سوانح حیات کو اس طرح بیان کیا ہے :
ان کا شمار ان علماء میں ہوتا ہے جنہوں نے بہت زیادہ کتابیں لکھی ہیں اور لوگوں کے احوال و اخبار سے آگاہ تھے ، انہوں نے ایک کتاب ”العقد الفرید“ لکھی ہے جو کہ بہت مفید ہے ، کتاب عقدالفرید (۱۵) میں لکھا ہے : علی نے پندرہ سال کی عمر میں اسلام قبول کیااور آپ وہ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے لا الہ الا اللہ و محمد رسول اللہ کی گواہی دی ہے، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے آپ کے متعلق فرمایا : من کنت مولاہ فعلی مولاہ ، اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ“۔
۱۱۔ حافظ علی بن عمر بن احمد دارقطنی (۱۶) متوفی ۳۸۵۔ آپ کی سوانح حیات تراجم احوال اور تاریخ کی بہت سی کتابوں میں لکھی گیی ہے ، خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ (۱۷) میں کہا ہے :
یہ اپنے زمانہ میں تنہا بزرگ، رییس، بے نظیر اور امام تھے ، علم حدیث ، راویوں کے اسماء اور ان کے احوال انہی پر ختم ہوجاتے ہیں، آپ صادق، امانتدار ، فقیہ اور عادل تھے ، آپ کی شہادت قبول ہوتی تھی، ان کا عقیدہ اور مذہب صحیح و سالم تھا ، دوسرے علوم کے ساتھ ساتھ علم حدیث میں بھی آپ کو بہت زیادہ مہارت تھی ۔
۱۲۔ متکلم قاضی محمد بن طیب بن محمد، ابوبکر باقلانی، متوفی ۴۰۳، بصرہ کے رہنے والے اور بغداد میں ساکن تھے ۔ آپ کاشمار علماء کلام میں ہوتا تھا اور اس علم میں بہت سی کتابیں لکھی ہیں، خطیب بغدادی نے اپنی کتاب تاریخ (۱۸)میں ان کی توثیق بیان کی ہے ۔
۱۳۔ ابواسحاق احمد بن محمد بن ابراہیم ثعلبی نیشاپوری (۱۹) ، مشہور مفسر متوفی ۴۲۷، ۴۳۷۔ ابن خلکان نے اپنی تاریخ (۲۰) میں ان کی سوانح حیات میں لکھا ہے : یہ اپنے زمانہ میںبہترین مفسر تھے ،انہوں نے تفسیر کبیر جو سب سے بہترین تفسیر ہے ،لکھی ہے ۔
۱۴۔ حافظ احمد بن حسین بن علی، ابوبکر بیہقی، متوفی ۴۵۸۔ اکثر تراجم احوال اور تاریخ لکھنے والوں نے ان کی سوانح حیات کو لکھا ہے ، ابن اثیر نے کتاب الکامل(۲۱) میں ان کو اس طرح یاد کیا ہے : یہ شافعی مذہب میں حدیث اورفقہ کے امام تھے ،ان کی بہت زیادہ تالیفات ہیں ان میں سے ایک کتاب ”السنن الکبیر“ دس جلدوں میں ہے ، یہ بہت ہی عفیف اور زاہد تھے ۔
۱۵۔ حافظ ابو عمر، یوسف بن عبداللہ بن محمد بن عبدالبر ، قرطبی، متولد ۳۶۸، متوفی ۴۶۳۔ کتاب ”استیعاب“ کے مصنف نے ان کو علم انساب اور اخبار کا ماہر لکھا ہے ۔
۱۶۔ ابوالحسن علی بن محمد جلابی، شافعی ،معروف بہ ابن غزالی، متوفی ۴۸۳۔ علم حدیث اور فنون میں ان کی مہارت کتاب مناقب ((۲۳) میں نظر آتی ہے ۔
۱۷۔ حافظ ابوحامد محمد بن محمد طوسی، غزالی ، مشہور بہ حجه الاسلام، متوفی ۵۰۵۔ ان کی سوانح حیات ، تراجم احوال اور تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے (۲۴) ۔
۱۸۔ ابوالقاسم جار اللہ محمود بن عمر زمخشری (۲۵) ، متوفی ۵۳۸۔ ابن خلکان نے اپنی تاریخ (۲۶) میں ان کی سوانح حیات لکھتے ہویے بیان کیا ہے : یہ اپنے زمانہ میں تفسیر، حدیث، نحو، علم بیان کے ماہر اور بے نظیر امام تھے اور لوگ دور و دراز سے علم حاصل کرنے کے لیے ان کے پاس آتے تھے ۔
۱۹۔ ابوالفتح محمد بن ابی القاسم عبدالکریم شہرستانی، شافعی کا شمار اشاعرہ کے متکلمین میں ہوتا ہے،متوفی ۵۴۸۔
ابن خلکان (۲۷) نے ان کی اس طرح توصیف کی ہے : آپ مبّرزامام ،فقیہ اور متکلم تھے، سبکی نے کتاب ”طبقات (۲۸) میں ان کی سوانح حیات لکھی ہے، شہرستانی نے ملل و نحل (۲۹) میں ان کی تعریف کی ہے ، انہوں نے حدیث غدیر کو کتاب ملل و نحل میںذکر کیا ہے ۔
۲۰۔ ابو عبداللہ محمد بن عمر بن حسین، فخر الدین رازی شافعی ، متوفی ۶۰۶، تفسیر کبیر کے مصنف۔ ابن خلکان نے کتاب تاریخ (۳۰) میں ان کی اس طرح تعریف بیان کی ہے : یہ اپنے زمانہ میں بہترین صافت کے مالک اور بے نظیر تھے، علم کلام ،معقولات اور علم اوایل(۳۱) میں اپنے ہم عصروں پر برتری رکھتے تھے ۔
۲۱۔ حافظ احمد بن عبداللہ ، فقیہ حرم، محب الدین ابوعباس طبری مکی شافعی، متوفی ۶۹۴۔ سُبکی نے کتاب طبقات (۳۲) میں ان کی سوانح حیات کو لکھا ہے ۔ انہوں نے حدیث غدیر کو اپنی دوکتابوں ”الریاض النضره“ اور ”ذخایر العقبی“ (۳۳) میں کیی طرق سے لکھا ہے ۔
۲۲۔ حافظ احمد بن علی بن محمد، ابوالفضل عسقلانی مصری شافعی، معروف بہ ابن حجر، متولد ۷۷۳ ، متوفی ۸۲۵۔ آپ نے کتاب ”اصابه“ اور ”تہذیب التہذیب“ لکھی ہیں(۳۴) ۔
۲۳۔ حافظ جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین مصری، سیوطی (۳۵) ، شافعی،متوفی ۹۱۱۔ عبدالحی نے کتاب ”شذرات الذہب“ (۳۶) میں ان کی سوانح حیات لکھی ہے اور ان کی بہت زیادہ تعریف لکھی ہے اس کے بعد ان کی تالیفات کو ذکر کرتے ہویے کہا ہے : انہوں نے ستر دفعہ سے زیادہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو بیداری کی حالت میں دیکھا ہے اور طی الارض کی کرامت کو ان کے لیے بیان کیا ہے ،ابن عیدروس نے بھی اپنی کتاب النور السافر (۳۷) میں ان کی تعریف کی ہے اور ان کی بہت سی کرامات اور تالیفات کو بیان کیا ہے ۔
۲۴۔ حافظ شہاب الدین احمد بن محمد بن علی بن حجر ہیثمی، سعدی، انصاری، شافعی، متولد ۹۰۹، متوفی ۹۷۴۔ ابن عیدورس نے اپنی کتاب النور السافر(۳۸) میں ان کی سوانح حیات لکھی ہے ۔
۲۵۔ سید محمد بن عبداللہ حسینی آلوسی، شہاب الدین ابوثناء بغدادی، شافعی ، متولد ۱۲۱۷ ، متوفی ۱۲۷۰۔ عراق کے بزرگ علماء دین میں آپ کا شمار ہوتا تھا ، مختلف فنون اور علوم میں آپ کو مہارت تھی، آپ عراق کے مشہور اور علم وادب کے خاندان میں پیدا ہویے ، آپ کی بہت سی تالیفات ہیں (۳۹) ۔
(ان فی ذلک لذکری لمن کان لہ قلب او القی السمع و ھو شہید)(۴۰) ۔
اس واقعہ میں نصیحت کا سامان موجود ہے اس انسان کے لیے جس کے پاس دل ہو یا جو حضور قلب کے ساتھ بات سنتا ہو(۴۱) ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حواله جات
۱۔ مراجعہ کریں : [نگاه کن: الغدیر 1/167 ـ 311].
2 ـ النهایه فى غریب الحدیث والاثر 4: 246 [5/228].
3 ـ نگاه کن: مناقب الشافعى، بیهقى [1/337].
4 ـ [الثقات 9/77].
5 ـ [مسند احمد 1/84 و 118 و 119 و 152 و 331; 4/281 و 368 ـ 372; 5/347 و 366 و 370 و 419].
6 ـ تاریخ البخاری 1 : قسم 1، ص 375.
7 ـ انساب الاشراف[2/108 ـ 112].
8 ـ تذکره الحفّاظ 1: 237 [2/665، شماره 685].
9 ـ تاریخ بغداد 9: 375.
10 ـ تذکره الحفّاظ 2: 268 [2/698، شماره 719].
11 ـ [السنن الکبرى 5/45 و 108 و 130 ـ 136].
12 ـ [خصایص امیر المومنین: 50 و 64 و 94 ـ 96 و 100 و 104].
13 ـ تذکره الحفّاظ 1: 277 ـ 283 [2/710، شماره 728].
14 ـ وفیات الاعیان 1: 34 [1/110، شماره 46].
15 ـ العقد الفرید 2: 275 [4/122].
16 ـ [ر. ک: علل الدار قطنی 3/224; 4/91].
17 ـ تاریخ بغداد 12: 34.
18 ـ تاریخ بغداد 5 : 379.
19 ـ [ر. ک: تفسیر ثعلبى 4/92; 10/35].
20 ـ وفیات الاعیان 1: 22 [1/79، شماره 31].
21 ـ الکامل فی التاریخ 10: 20[6/238، حوادث سال 458 هـ].
22 ـ نگاه کن: تذکره الحفّاظ، ذهبى 3: 324 [3/1128، شماره 1013].
23۔ ذہبی نے کتاب معرفه الکبار، ج۲،ص ۵۶۶ پر ان کی کتاب سے حضرت علی (علیہ السلام) کے فضایل و مناقب کو بیان کیا ہے ،انہوں نے کتاب مناقب کے ص ۱۶ پر ”پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے قول ”من کنت مولاہ فعلی مولاہ“کے عنوان سے ایک باب لکھا ہے اور وہاں پر نو (۹) اصحاب کے ذریعہ سترہ طرق سے اس حدیث کو نقل کیا ہے ۔
24۔ سُبکی نے کتاب طبقات الشافعیه الکبری ، ج ۴، ص ۱۰۱۔ ۱۸۲ پر ان کی سوانح حیات کو بیان کیا ہے ۔
25۔ ”زمخشر“ خوارزم کے دیہاتوں میں سے ایک بزرگ دیہات ہے (معجم البلدان، ج ۳، ص ۶۹۴۔
26 ـ وفیات الاعیان 2: 197 [5/168، شماره 711].
27 ـ وفیات الاعیان [4/273، شماره 611].
28 ـ طبقات الشافعیّه الکبرى 4: 78[6/128، شماره 653].
29 ـ [الملل والنحل 1/163].
30 ـ وفیات الاعیان 2: 48 [4/248، شماره 600].
31۔ ”علم اوایل“ کی تعریف میں کہا گیا ہے : ”ھو علم یتعرف منہ اوایل الوقایع والحوادث بحسب الموطن والنسب“۔ علم اوایل ایسا علم ہے جس میں واقعات اور حوادث کے اوایل اور آغاز کو بیان کیا گیا ہے ،اس معنی میں کہ جو واقعہ بھی رونما ہوا ہے وہ کس سے منسوب ہے اور کس جگہ اور کن حالات میں رونما ہوا ہے،یہ علم ، علم تاریخ کی ایک فرع ہے اس سلسلہ میں جو کتابیں لکھی گیی ہیں ان میں سے ایک ابوہلال عسکری کی ”کتاب الاوایل“(۳۹۵) ہے ، مراجعہ کریں: کشف الظنون، حاجی خلیفہ، ج ۱، ص ۹۹۱۔
32 ـ طبقات الشافعیّه الکبرى 5: 9 [8/18، شماره 1046].
33 ـ [ذخایر العقبى/67 ـ 68; 87 ـ 88].
34۔ سخاوی نے کتاب ضوء اللامع ،ج ۲، ص ۳۶۔۴۰ پر تفصیل کے ساتھ ان کی سوانح حیات کو لکھا ہے اور ان کے مشایخ اور تالیفات کو بھی بیان کیا ہے ۔ نیز عبدالحی نے شذرات الذہب، ج ۷، ص ۲۷۰۔ ۲۷۳پرسال ۸۵۲ ہجری کے حوادث میں آپ کی بہت زیادہ تعریف کی ہے ۔
35۔ ”اسیوط“ سے منسوب ، یہ نیل کے مغربی علاقوں میں صعید کے نزدیک ایکشہر ہے (معجم البلدان، ج۱، ص ۱۹۳۔
36 ـ شذرات الذهب 8: 51 ـ 55 [10/74، حوادث سال 911 هـ].
37 ـ النور السافر: 54 ـ 57 [ص 51 ـ 54، حوادث سال 911 هـ].
38 ـ النور السافر: 287 ـ 292 [ص 258 ـ 263، حوادث سال 974 هـ]; و نگاه کن: البدر الطالع 1: 109.
39۔ آپ کی سوانح حیات کتاب اعلام العراق، ج ۲۱ ، اور مشاہیر العراق، ج ۲، ص ۱۹۸ پر بیان ہویی ہے ۔
40 ـ سوره ق: 37.
41- گزیده اى جامع از الغدیر، ص 51.