حدیث غدیر خم کی تخریج

واقعۂ غدیر اہم ترین اسلامی واقعات اور رودادوں میں سے ہے ۔اس کی اہمیت کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ(ص) نے حجۃ الوداع سے واپسی کے وقت غدیر خم کے نام سے مشہور مقام پر مسلمان حاجیوں کو روک کر امیرالمؤمنین(ع) کو لوگوں کے ولی اور اپنے جانشین کے

حدیث من کنت مولا کے نام سے محترم کارتوس خان نے ایک دھاگہ شروع کیاتھا جس میں حدیث غدیر خم پر اعتراض کیا گیا تھا ــ
جسے اب مثبت موضوع ضعیف احادیث کے ضمن میں دے دیا گیا ہے ــ
القلم فورم سے سید حسن نظامی کا آرٹیکل حدیث غدیر خم کی تخریج درج ذیل ہے ـــ
غدیر خم کا پس منظر
علامہ یاقوت حموی معجم البلدان جلد 4 صفحہ 118 میں رقمطراز ہیں کہ :
"غدیر خم بین مکۃ و مدینۃ بینہ و بین الجحفۃ میلان "
"غدیر خم ایک موضع کا نام ہے جو مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے درمیان میں واقع ہے اور جحفہ کے گاوں سے اس کی مسافت صرف دو میل ہے "
دراصل حجۃ الوداع سے واپسی کےبعد ہر کسی نے اپنے اپنے علاقے کی طرف واپس جانا تھا ـ غدیر خم وہ مرکزی مقام تھا جہاں سے جزیرہ عرب کے تمام اطراف و اکناف کی طرف راستے جاتے تھے ـ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسب سمجھا کہ اس سے پیشتر کہ تمام قبائل یہاں سے منتشر ہو کر اپنی اپنی منزل پر روانہ ہو جائیں ، ان لوگوں کے دلوں میں حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کی بے داغ سیرت وکردار کے بارے میں جو شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں ان کا قطعی طور پر ازالہ کر دیا جائے تاکہ آج کے بعد کسی کلمہ گو کے دل میں علی المرتضی کی ذات والا صفات کے بارے میں کسی قسم کی کوئی غلط فہمی باقی نہ رہے ـ
رواج یہ تھا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی خطبہ ارشاد فرمانا ہوتا تو موذن الصلوۃ جامعۃ اعلان کرتا تھا ہر کلمہ گو یہ سن کر جہاں بھی ہو بھاگا چلا آتا تھا تمام قبائل کو اسی طرح بلایا گیا تمام قبائل جہاں تھے وہیں رک گئے تاکہ آقا کے ان آخری کلمات کو بھی حرز جاں بنا لیں ـ
علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنی تصنیف السیرۃ النبویۃ میں اس کے بارے میں یوں رقمطراز ہیں :
ذی الحجہ کا مہینہ تھا اس ماہ کی اٹھارہ تاریخ تھی ، اتوار کا دن تھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ ولسم نے اس موقع پر ایک عظیم الشان خطبہ ارشاد فرمایا جس میں سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ کے فضل و کمال ، امانت و دیانت ، عدل و انصاف کے بارے میں اپنی زبان حقیقت بیان سے شہادت دی اس شہادت کے بعد اگر کسی غلط فہمی کے باعث کسی کے دل میں سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں کوئی وسوسہ تھا تو وہ ہمیشہ کے لئے محو ہو گیا ـ حضرت بریدہ بن حصیب کہتے ہیں میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن کے دلوں میں سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ کی ذات والا صفات کے بارے میں طر ح طرح کی غلط فہمیاں پیدا ہو گئی تھیں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پاک کو سن کر میرے دل میں سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ کی اتنی محبت پیدا ہو گئی کہ آپ میرے سب سے زیادہ محبوب بن گئے ـ ﴿ابن کثیر السیرۃ النبویۃ جلد 4 صفحہ 333﴾
اس حدیث کو جن کبار صحابہ اور تابعین نے بیان کیا ہے وہ درج ذیل ہیں
واقعۂ غدیر بیان کرنے والے مشہور صحابۂ کرام و تابعین عظام
1 ابو اِسحاق
2 اَصبغ بن نباتہ رضی اللہ عنہ
3 ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ
4 ابو بردہ رضی اللہ عنہ
5 بریدہ رضی اللہ عنہ
6 ابو بریدہ رضی اللہ عنہ
7 انس بن مالک رضی اللہ عنہ
8 براء بن عازب رضی اللہ عنہ
9 ثابت بن ودیعہ انصاری رضی اللہ عنہ
10 جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہما
11 جریر رضی اللہ عنہ
12 ابو جعفر رضی اللہ عنہ
13 ابو جنیدہ جندع بن عمرو بن مازن رضی اللہ عنہ
14 حُبشیٰ بن جنادہ رضی اللہ عنہ
15 حبیب بن بدیل رضی اللہ عنہ
16 حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ
17 حسن بن حارث رضی اللہ عنہ
18 حسن بن حسن رضی اللہ عنہ
19 خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ
20 رفاعہ بن ایاس ضبی رضی اللہ عنہ
21 ریاح بن حارث رضی اللہ عنہ
22 ریاح بن حرث رضی اللہ عنہ
23 زاذان ابو عمر رضی اللہ عنہ
24 زاذان بن عمر رضی اﷲ عنہما
25 زر بن حبیش
26 زیاد بن ابی زیاد
27 زیاد بن حارث
28 زید بن ارقم رضی اللہ عنہ
29 زید بن شراحیل
30 زید بن یثیع رضی اللہ عنہ
31 ابو زینب رضی اللہ عنہ
32 سالم رضی اللہ عنہ
33 ابو سریحہ رضی اللہ عنہ
34 سعد رضی اللہ عنہ
35 سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
36 سعد بن عبیدہ رضی اللہ عنہ
37 سعید بن وہب رضی اللہ عنہ
38 ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ
39 سفیان بن عیینہ رضی اللہ عنہ
40 سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ
41 ابو طفیل رضی اللہ عنہ
42 طلحہ رضی اللہ عنہ
43 طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہما
44 عامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنھم
45 عبد الاعلی بن عدی
46 عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ
47 عبد الرحمن بن سابط رضی اللہ عنہ
48 عبد الرحمن بن عبد الرب انصاری رضی اللہ عنہ
49 عبداﷲ بن بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ
50 عبد اﷲ بن ثابت رضی اللہ عنہ
51 عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما
52 عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما
53 عبداﷲ بن محمد بن عاقل
54 عبداﷲ بن یامیل رضی اللہ عنہ
55 عبید بن عازب انصاری رضی اللہ عنہ
56 عطیہ عوفی رضی اللہ عنہ
57 علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ
58 علی بن حسین رضی اﷲ عنہما
59 عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ
60 عمران بن حصین رضی اللہ عنہ
61 عمر فاروق بن الخطاب رضی اللہ عنہ
62 عَمرو ذی مر رضی اللہ عنہ
63 عَمرو بن ذی مر رضی اللہ عنہ
64 عَمرو بن العاص رضی اللہ عنہ
65 عَمرو بن میمون رضی اللہ عنہ
66 ابو عَمرہ بن محصن رضی اللہ عنہ
67 عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ
68 عمیر بن سعید
69 عمیرہ بن سعد رضی اللہ عنہ
70 سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا
71 ابو فضالہ انصاری رضی اللہ عنہ
72 قیس بن ثابت
73 مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ
74 محمد بن حنفیہ
75 محمد بن علی
76 میمون ابو عبد اﷲ رضی اللہ عنہ
77 ناجیہ بن عمرو
78 نعمان بن عجلان رضی اللہ عنہ
79 ابو نعیم
80 ابن واثلہ رضی اللہ عنہ
81 ہشام بن عتبہ
82 ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
83 ابو یزید اودی
84 یزید بن عمر بن مورق رضی اللہ عنہ
نوٹ
قرآن مجید کی آیات کے بعد احادیث کا درجہ ہے اور احادیث میں سب سے زیادہ مستند حدیث متواتر حدیث کہلاتی ہے اور متواتر نص قرآنی کی مانند ہے اس سے احکام ثابت ہوتے ہیں ـ
مندرجہ ذیل حدیث متواتر کے زمرے میں آتی ہے ـ
حدیث متواتر کی تعریف
حدیث متواتر کی تعریف میں علامہ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ
متواتر وہ حدیث ہوتی ہے جس کے روای اس کثرت کے ساتھ ہوں کہ ان کا جھوٹ پر متفق ہونا محال ہے اور یہ کثرت ابتداء سے لے کر انتہاء تک برابر رہے اور برابری کا مطلب یہ ہے کہ روایوں کی تعداد کم نہ ہو یہ مطلب نہیں کہ زیادہ نہ ہو جبکہ زیادتی اس باب میں اولی اور بہتر ہے ـ
تو میرے محترم یہ حدیث بھی متواتر کے زمرے میں آتی ہے کیونکہ اس کے طرق بے تحاشا ہیں ـ
نوٹ
﴿ابن عقدہ نے ’کتاب الموالاۃ‘ میں حدیث غدیر کے 101 رُواۃ کا ذکر کیا ہے﴾
حدیث نمبر : 1
عن شعبة، عن سلمة بن کهيل، قال : سمعتُ أبا الطفيل يحدّث عن أبي سريحة. . . أو زيد بن أرقم، (شک شعبة). . . عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم، قال : مَن کنتُ مولاه فعلیّ مولاه.
(قال : ) و قد روي شعبة هذا الحديث عن ميمون أبي عبد اﷲ عن زيد بن أرقم عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم.
شعبہ، سلمہ بن کہیل سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابوطفیل سے سنا کہ ابوسریحہ۔ ۔ ۔ یا زید بن ارقم رضی اللہ عنہما۔ ۔ ۔ سے مروی ہے (شعبہ کو راوی کے متعلق شک ہے) کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’جس کا میں مولا ہوں، اُس کا علی مولا ہے۔‘‘
شعبہ نے اس حدیث کو میمون ابو عبد اللہ سے، اُنہوں نے زید بن ارقم سے اور اُنہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
1. ترمذی، الجامع الصحيح، 6 : 79، ابواب المناقب، رقم : 3713
2. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 2 : 569، رقم : 959
3. محاملي، امالي : 85
4. ابن ابي عاصم، السنه : 603، 604، رقم : 1361، 1363، 1364، 1367، 1370
5. طبراني، المعجم الکبير، 5 : 195، 204، رقم : 5071، 5096
6. نووي، تهذيب الاسماء و اللغات، 1 : 347
7. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 45 : 163، 164
8. ابن اثير، اسد الغابه، 6 : 132
9. ابن اثير، النهايه في غريب الحديث والاثر، 5 : 228
10. ابن کثير، البدايه و النهايه، 5 : 463
11. ابن حجر عسقلاني، تعجيل المنفعه : 464، رقم : 1222
ترمذی نے اسے حسن صحیح غریب کہا ہے، اور شعبہ نے یہ حدیث میمون ابوعبد اللہ کے طریق سے زید بن ارقم سے بھی روایت کی ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے یہ حدیث اِن کتب میں مروی ہے :
1. حاکم، المستدرک، 3 : 134، رقم : 4652
2. طبراني، المعجم الکبير، 12 : 78، رقم : 12593
3. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، 12 : 343
4. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 45 : 77، 144
5. ابن کثير، البدايه و النهايه، 5 : 451
6. هيثمی، مجمع الزوائد، 9 : 108
یہ حدیث حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اﷲ عنہما سے مندرجہ ذیل کتب میں مروی ہے :
1. ابن ابي عاصم، السنه : 602، رقم : 1355
2. ابن ابي شيبه، المصنف، 6 : 366، رقم : 32072
یہ حدیث حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے بھی درج ذیل کتب میں منقول ہے :
1. ابن ابی عاصم، السنه : 602، رقم : 1354
2. طبراني، المعجم الکبير، 4 : 173، رقم : 4052
3. طبراني، المعجم الاوسط، 1 : 229، رقم : 348
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مندرجہ ذیل کتب میں روایت کی گئی ہے :
1. نسائي، خصائص امير المؤمنين علي بن ابي طالب رضي الله عنه : 88، رقم : 80
2. ابن ابي عاصم، السنه : 602، 605، رقم : 1358، 1375
3. ضياء مقدسي، الاحاديث المختاره، 3 : 139، رقم : 937
4. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 20 : 114
یہ حدیث حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مندرجہ ذیل کتب میں روایت کی گئی ہے :
1. عبدالرزاق، المصنف، 11 : 225، رقم : 20388
2. طبراني، المعجم الصغير، 1 : 71
3. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 45 : 143
4۔ ابن عساکر نے ’تاریخ دمشق الکبیر (45 : 143)‘ میں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث ذرا مختلف الفاظ کے ساتھ بھی روایت کی ہے۔
یہ حدیث ابن بریدہ رضی اللہ عنہ سے مندرجہ ذیل کتب میں منقول ہے :
1. ابن ابي عاصم، السنه : 601، رقم : 1353
2. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 45 : 146
3. ابن کثير، البدايه و النهايه، 5 : 457
4. حسام الدين هندي، کنز العمال، 11 : 602، رقم : 32904
یہ حدیث حُبشیٰ بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے اِن کتب میں مروی ہے :
1. ابن ابی عاصم، السنه : 602، رقم : 1359
2. حسام الدبن هندی، کنزالعمال، 11 : 608، رقم : 32946
یہ حدیث حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے اِن کتب میں مروی ہے :
1. طبرانی، المعجم الکبير، 19 : 252، رقم : 646
2. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 45 : 177
3. هيثمی، مجمع الزوائد، 9 : 106
طبرانی نے یہ حدیث ’المعجم الکبیر (3 : 179، رقم : 3049)‘ میں حذیفہ بن اُسید غفاری رضی اللہ عنہ سے بھی نقل کی ہے۔
ابن عساکر نے ’تاریخ دمشق الکبیر (45 : 176، 177، 178)‘ میں یہ حدیث حضرت ابوہریرہ، حضرت عمر بن خطاب، حضرت انس بن مالک اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھم سے بالترتیب روایت کی ہے۔
ابن عساکر نے یہ حدیث حسن بن حسن رضی اللہ عنہما سے بھی ’تاریخ دمشق الکبیر (15 : 60، 61)‘ میں روایت کی ہے۔
ابن اثیر نے ’اسد الغابہ (3 : 412)‘ میں عبداللہ بن یامیل سے یہ روایت نقل کی ہے۔
ہیثمی نے ’موارد الظمآن (ص : 544، رقم : 2204)‘ میں ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کی ہے۔

ابن حجر عسقلانی نے ’فتح الباری (7 : 74)‘ میں کہا ہے : ’’ترمذی اور نسائی نے یہ حدیث روایت کی ہے اور اس کی اسانید کثیر ہیں۔‘‘
البانی نے ’سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ (4 : 331، رقم : 1750)‘ میں اس حدیث کوامام بخاری اور امام مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر : 2
عن عمران بن حصين رضي الله عنه، قال، قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : ما تريدون مِن علي؟ ما تريدون مِن علي؟ ما تريدون مِن علي؟ إنّ علياً مِني و أنا منه، و هو ولي کل مؤمن من بعدي.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’تم لوگ علی کے متعلق کیا چاہتے ہو؟ تم لوگ علی کے متعلق کیا چاہتے ہو؟ تم لوگ علی کے متعلق کیا چاہتے ہو؟‘‘ پھر فرمایا : ’’بیشک علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور وہ میرے بعد ہر مؤمن کا ولی ہے‘‘۔
1. ترمذي، الجامع الصحيح، 6 : 78، ابواب المناقب، رقم : 3712
2. نسائي، خصائص امير المؤمنين علي بن ابي طالب رضي الله عنه : 77، 92، رقم : 65، 86
3. نسائي، السنن الکبریٰ، 5 : 132، رقم : 8484
4۔ احمد بن حنبل کی ’المسند (4 : 437، 438)‘ میں بیان کردہ روایت کے آخری الفاظ یہ ہیں : و قد تغیر وجہہ، فقال : دعوا علیا، دعوا علیا، ان علی منی و انا منہ، وھو ولی کل مؤمن بعدی (اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرۂ مبارک متغیر ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : علی (کی مخالفت کرنا) چھوڑ دو، علی (کی مخالفت کرنا) چھوڑ دو، بیشک علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور وہ میرے بعد ہر مومن کا ولی ہے)۔
5۔ ابن کثیر نے امام احمد کی روایت ’البدایہ والنہایہ (5 : 458)‘ میں نقل کی ہے۔
6. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 2 : 620، رقم : 1060
7. ابن ابي شيبه، المصنف، 12 : 80، رقم : 12170
8۔ حاکم نے ’المستدرک (3 : 110، 111، رقم : 4579)‘ میں اس روایت کو مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح قرار دیا ہے، جبکہ ذہبی نے اس پر خاموشی اختیار کی ہے۔
9۔ ابن حبان نے ’الصحیح (15 : 373، 374، رقم : 6929)‘ میں یہ حدیث قوی سند سے روایت کی ہے۔
10۔ ابو یعلی نے ’المسند (1 : 293، رقم : 355)‘ میں اسے روایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے رجال صحیح ہیں، جبکہ ابن حبان نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔
11۔ طیالسی کی ’المسند (ص : 111، رقم : 829)‘ میں بیان کردہ روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ما لھم و لعلیّ (اُنہیں علی کے بارے میں اِتنی تشویش کیوں ہے)؟
12. ابو نعيم، حلية الاولياء و طبقات الاصفياء، 6 : 294
13. محب طبري، الرياض النضره في مناقب العشره، 3 : 129
14. هيثمي، موارد الظمآن، 543، رقم : 2203
15. حسام الدين هندي، کنزالعمال، 13 : 142، رقم : 36444
نسائی کی بیان کردہ دونوں روایات کی اسناد صحیح ہیں۔
حدیث نمبر : 3
عن سعد بن أبي وقاص، قال : سمعتُ رسولَ اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول : مَن کنتُ مولاه فعلیّ مولاه، و سمعتُه يقول : أنت مني بمنزلة هارون من موسي، إلا أنه لا نبي بعدي، و سمعتُه يقول : لأعطينّ الرأية اليوم رجلا يحب اﷲ و رسوله.
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’جس کا میں ولی ہوں اُس کا علی ولی ہے۔‘‘ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (حضرت علی رضی اللہ عنہ کو) یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’تم میری جگہ پر اسی طرح ہو جیسے ہارون، موسیٰ کی جگہ پر تھے، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (غزوۂ خیبر کے موقع پر) یہ بھی فرماتے ہوئے سنا : ’’میں آج اس شخص کو علم عطا کروں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔‘‘
1۔ ابن ماجہ نے يہ صحيح حديث ’السنن (1 : 90، المقدمہ، رقم : 121)‘ ميں روايت کي ہے۔
2۔ نسائي نے يہ حديث ’خصائص اميرالمؤمنين علي بن ابي طالب رضي اللہ عنہ (ص : 32، 33، رقم : 91)‘ میں ذرا مختلف الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے۔
3. ابن ابي عاصم، کتاب السنه : 608، رقم : 1386
4. مزي، تحفة الاشراف بمعرفة الأطراف، 3 : 302، رقم : 3901