غزہ جل رہاہے۔۔۔ٹی وی شیعہ رپورٹ

امریکی لے پالک پھر باؤلا ہوچکا ہے۔ دنیا بھر کے نام نہاد امن پسند اور انسانی حقوق کے وہ علمبردار جن کی رگوں میں تعصب کا خون دوڑتا ہے، وہ سب خاموش۔ دلیل مگر بہت ہی بھونڈی ہے ’’اسرائیل کو اپنے دفاع میں غزہ پر حملہ کرنے کا حق حاصل ہے۔‘

ٹی وی شیعہ[کرنٹ رپورٹ]امریکی لے پالک پھر باؤلا ہوچکا ہے۔ دنیا بھر کے نام نہاد امن پسند اور انسانی حقوق کے وہ علمبردار جن کی رگوں میں تعصب کا خون دوڑتا ہے، وہ سب خاموش۔ دلیل مگر بہت ہی بھونڈی ہے ’’اسرائیل کو اپنے دفاع میں غزہ پر حملہ کرنے کا حق حاصل ہے۔‘‘ سوال مگر یہ ہے کہ اسرائیل کو یہ حق دیا کس نے؟ امریکہ نے؟ مغربی ممالک نے؟ ایک سوال اور بھی بنتا ہے۔ ایٹمی اسرائیل کو نہتے فلسطینیوں سے خطرہ ہے کیا ہے؟ اسرائیل غاصب ہے، اور غاصب ہمہ وقت ایک انجانے خوف کا شکار رہتا ہے۔ اس بربریت اور وحشت کے حق میں کسی بھی طرح کی دلیل قبول نہیں، چہ جائیکہ امریکہ کہتا پھرے کہ وہ غزہ کے معاملے پر اسرائیل کے ساتھ ہے۔
 
او آئی سی، عرب لیگ، بے شمار مسلم ممالک اور ڈھیروں اسلامی تنظیمیں مل کر بھی اسرائیلی مظالم کے سامنے بند باندھنے میں ابھی تک عملاً ناکام ہیں۔ مفروضوں پر مگر زندگی کی حقیقتوں کو قربان نہیں کیا جاسکتا۔ اسرائیل غاصب ہے اور دنیا بھر کے ظالم، استعماری طاقتیں اور سامراجی مزاج اسکی ہم نوا۔ کیا سامراج صرف امریکہ اور برطانیہ ہی ہیں؟ اس اردن اور مصر کو ہم کیوں بھول جاتے ہیں؟ وہ سارے عرب ممالک جنھوں نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے؟ ان کے بارے کیا خیال ہے؟ کیا یہ سب بھی نہتے فلسطینیوں کی نسل کشی میں برابر کے شریک نہیں؟ اس بات کو تسلیم کرکے بھی اس کے حق میں دی جانے والی دلیل کو کوئی بھی ذی فہم قبول نہیں کرسکتا۔ وہ بات کیا ہے۔؟

وہ بات یہ ہے کہ جرمن نازی ہٹلر نے یہودیوں کا ایسا قتلِ عام کیا کہ اس نے دوسری جنگِ عظیم میں چن چن کر یہودیوں کو قتل کیا۔ ہولو کاسٹ کا ایک پورا نظریہ معرضِ وجود میں آگیا۔ یہودی مظلوم قرار پائے اور ان کی دلجوئی کے لیے انھیں فلسطین میں آباد کیا گیا۔ مگر کیوں؟ کیا فلسطینیوں نے یہودیوں کا قتلِ عام کیا تھا؟ کیا ہٹلر فلسطینی عرب تھا؟ عالمی سامراج نے اگر یہودیوں کی دلجوئی ہی کرنا تھی تو انھیں یورپ اور جرمنی میں ’’احترام دیا جاتا‘‘ کھیل مگر اور ہے۔ ماتم البتہ عربوں کے فہم پر ہی کیا جانا چاہیے۔ اسرائیل ایسا سامراج کا بد مزاج بچہ جب ان کے صحن میں چھوڑ دیا گیا تو انھوں نے اس بد مزاج کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ سوائے شام اور عراق کے کس کے پاس اپنی فوج ہے؟ شام کو ایسا الجھایا گیا کہ وہ مڑ کر اسرائیل کی طرف دیکھ بھی نہ سکے۔ عراق میں داعش و القاعدہ کا ’’اسلام‘‘ مسلم کشی کو عین عبادت قرار دے رہا ہے۔ شام میں "جاری جہاد‘‘ سنتے آرہے ہیں کہ مشرقِ وسطٰی کے راستے پاکستان سے ہوتا ہوا دہلی تک جائے گا۔

سارے عرب اگر اکٹھے ہو کر پیدل ہی اسرائیل پر یلغار کر دیں تو اس کو صٖفحہ ہستی سے مٹا سکتے ہیں۔ شاہوں کو ڈر مگر موت سے ہے۔ لبنان میں اپنی شکست کا بدلہ پھر سے غزہ والے نہتے فلسطینیوں سے لیا جا رہا ہے۔ لبنان میں حزب اللہ کے ہاتھوں شکست کے بعد خطے میں اسرائیل کی چودھراہٹ کو جو خطرہ تھا، اپنی اسی ساکھ کی بحالی کے لیے وہ پھر سے غزہ کی طرف چڑھ دوڑا ہے۔ اسرائیل کا مؤقف یہ ہے کہ ’’وہ یہ کارروائی اپنے دفاع کے لیے کر رہا ہے، تاکہ حماس کی جانب سے اسرائیلی حدود میں راکٹ پھینکے جانے کی صلاحیت اور ان سرنگوں کو ختم کیا جاسکے، جن کے ذریعے غزہ کے محصور شہری زندگی کی بنیادی ضروریات حاصل کرتے ہیں۔‘‘
 
دریں اثناء اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ کی صورتحال پر ہنگامی اجلاس میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ سلامتی کونسل کی طرف سے جنگ بندی کا مطالبہ غزہ میں اتوار کو تقریباً 100 فلسطینیوں کی شہادت کے بعد کیا گیا ہے۔ فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کی طرف سے غزہ پر فضائی حملوں کے آغاز سے اب تک شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 501 ہوگئی ہے جبکہ ان حملوں میں 3135 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ ہمیں اس امر میں کلام نہیں کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل ایک مؤثر ادارہ ہے لیکن ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اسرائیل امریکی ایما پر ایسی کسی بھی قرارداد کو خاطر میں نہیں لائے گا، جس میں جنگ بندی جیسے اقدام کا کہا گیا ہو۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے ایک خطاب میں کہا کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی تب تک جاری رہے گی، جب تک اسرائیلی سکیورٹی بحال نہیں ہو جاتی۔ اس سے اسرائیلی عزائم کا پتہ چلتا ہے کہ وہ غزہ میں محصور سارے فلسطینیوں کو شہید کرکے اپنی وحشت کو رواج دینا چاہتا ہے۔ اسرائیل جانتا ہے کہ عربوں میں ایک شام ہی تھا جو فلسطینی جدوجہد کی مسلح مدد کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا، مگر سامراج نے اپنے گماشتوں کے ذریعے ایسا ’’جہادی‘‘ چکر چلایا کہ اب شام اپنے مسائل میں الجھ کر رہ گیا۔ عراق میں داعش کو چھوڑا گیا اور پھر ساتھ ہی اسرائیل نے غزہ پر چڑھائی کر دی، تاکہ بین الاقوامی میڈیا میں شامی صدر کی ’’انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں‘‘ اور داعش کی کارروائیوں کی گونج موجود رہے اور اسرائیلی بربریت کی طرف توجہ کم رہے۔

تاریخ کے صفحات الٹنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ سادہ ترین الفاظ میں بھی مسلم امہ کا کردار شرمناک ہے۔ کیا ہمارے مذمتی بیانات سے اسرائیلی کارروائیاں رک جائیں گی؟ کیا جمعۃ الوداع کے خطابات میں اسرائیلی مذمت سے فلسطینی مسلمانوں کا دکھ کم ہو جائے گا؟ عرب ممالک اگر صرف ایک ہفتہ کے لیے پورپ اور امریکہ کو تیل کی سپلائی ہی بند کر دیں تو اسرائیل راہِ راست پر آجائے۔ ان میں مگر حمیت نہیں ہے۔ کہاں ہیں وہ سارے جہادی جو مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہیں؟ انھیں غزہ میں اسرائیلی ستم نظر نہیں آتا؟ وہ جن کے دل میں ہمہ وقت کشمیر کو آزاد کرانے کی لگن موجود رہتی ہیں اور وہ جو شام میں ’’جہاد‘‘ کے لیے بھرتی سنٹر کھولے بیٹھے ہیں، کیا وہ چند ایک جہادی غزہ کے مسلمانوں کے لیے بھی بھیج سکتے ہیں؟ منافقت ہے اور فرقہ پرستی۔ کرائے کے جہادی ادھر کا ہی رخ کریں گے جدھر کا عرب شیوخ کہیں گے۔ ترکی والے مسلمانوں کو کیا ہوا؟ کیا ترکی کی تنبیہ سے اسرائیل باز آجائے گا؟ نواب زادہ نصراللہ کے اشعار یاد آتے ہیں
کب اشک بہانے سے کٹی ہے شبِ ہجراں؟
کب کوئی بلا صرف دعاؤں سے ٹلی ہے؟
ہم رہروِ دشتِ بلا روزِ ازل سے
اور قافلہ سالار حسین ؑ ابنِ علی ؑ ہے

مگر کون ہے جو اس قافلے میں شریک ہو؟ سب مگر اشک بہانے والے اور دعاؤں کے سہارے اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کی تباہی کا منظر دیکھنا چاہتے ہیں۔ بحثیت مجموعی امت مسلمہ کا ایسا مضبوط کردار نظر ہی نہیں آرہا کہ وہ دنیا کو اسرائیلی درندگی کی طرف قائل کرسکے۔ اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ۔ او آئی سی کے جنازے کا اعلان کرتے ہوئے عرب لیگ کا قل کرا دینا چاہیے۔ کیا مسلم ممالک بھی اسرائیل کی درندگی روکنے کے لیے امریکہ کی طرف نہیں دیکھ رہی ہیں؟
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دعا لیتے ہیں

تحریر: طاہر یاسین طاہر