اسلامی سال کا آغاز ربیع الاول سے یا محرم الحرام سے

غمبر اکرم(ص) نے ۲۶ صفر کو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تین دن غار ثور میں رہے اور پہلی ربیع الاول کو مکہ کی سرحد سے نکل کر یثرب میں داخل ہوئے اور ۸ ربیع الاول کو مدینے کے قریب قبا نامی جگہ پر مسجد قباء کی بنیاد ڈالی اور ۱۲ ربیع الاول کو مدینے میں پہنچے۔

اسلامی سال کا آغاز ربیع الاول سے یا محرم الحرام سے

اسلامی سال کا آغاز ربیع الاول سے یا محرم الحرام سےءقرآنءمحمدءعلیءشیعهءاسلامءtvshiaء

پیغمبر اکرم(ص) نے ۲۶ صفر کو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تین دن غار ثور میں رہے اور پہلی ربیع الاول کو مکہ کی سرحد سے نکل کر یثرب میں داخل ہوئے اور ۸ ربیع الاول کو مدینے کے قریب قبا نامی جگہ پر مسجد قباء کی بنیاد ڈالی اور ۱۲ ربیع الاول کو مدینے میں پہنچے۔

دوسری بات یہ کہ جب ہجرت ماہ ربیع الاول میں ہوئی تو کیوں ماہ محرم کو اسلامی سال کا پہلا مہینہ قرار دیا گیا؟ اس سوال کے جواب میں یوں عرض کیا جائے کہ مسلمانوں نے واقعہ ہجرت کو اسلامی تاریخ کا مبداء قرار دیا ناکہ سال کا پہلا مہینہ۔ چونکہ پیغمبر کے دور بلکہ آپ سے پہلے بھی عربوں کے یہاں سال کی ابتدا ماہ محرم سے ہی ہوتی تھی چونکہ عرب حج سے فارغ ہو کر ماہ محرم میں اپنے تجارتی کاروبار کا آغاز کرتے تھے اس وجہ سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے تھے۔

تاریخ میں نقل ہے کہ حضرت عمر نے اپنے دور خلافت میں اکابر صحابہ منجملہ امیر المومنین(ع) کو بلوا کر اس سلسلے میں مشورہ کیا کہ اسلامی کلینڈر تشکیل دیا جانے کی صورت میں اسلام کے کس واقعے کو مبداءتاریخ قرار دیا جائےتو سب نے مختلف آراء پیش کیں لیکن کوئی رائے تصویب نہیں ہوئی بالاآخرے حضرت علی علیہ السلام کے مشورے سے ہجرت کو مبداء تاریخ اسلامی قرار دے دیا گیا۔ اور محرم چونکہ پہلے سے ہی سال کا پہلا مہینہ تھا اس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔