حسین{ع} آج بھی تنہا ہیں

ہاں یہ لوگ حسینی ہیں اور حسینی ایسے ہی ہوتے ہیں،انجمنوں کے عہدے ،ٹرسٹوں کے ڈھانچے،نعروں کے چربے،پوسٹروں کے انبار اور ریلیوں کے اجتماعات کسی کو حسینی نہیں بنا سکتے۔ حسینی بننے کے لیے کسی فنڈ اور کسی امداد کی ضرورت نہیں

بقلم: نذر حافی

nazarhaffi@yahoo.com

انسان آج بھی جب تاریخ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتا ہے تو اسے دور دور تک لق و دق صحرا میں گھوڑوں کی ٹاپوں سے اٹھتے ہوئے گردو غبارکے درمیان سونتی ہوئی تلواروں ، ٹوٹی ہوئی ڈھالوں اور پاش پاش لاشوں کے درمیان میں ٹوٹی ہوئی تلوار کی ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا ایک ایسا شخص نظر آتا ہے،جس کے استغاثے کی آواز چاروں طرف پھیلے ہوئےلشکر اعداء کے سینے کو چیر کر آفاق ہستی کے قلب و جگر میں اتر رہی ہے۔
چودہ سو برس گزر گئے،مارنے والے اسے مار رہے ہیں،کوئی زبان کے نشتر چبھو رہا ہے،کوئی تیر پھینک رہا ہے،کوئی تلوار کے وار کر رہا ہے، کوئی پتھر مار رہا ہے ۔۔۔۔
لیکن کوئی نہیں،کوئی نہیں۔۔۔جو اس کی آواز پر آواز دے،جو اس کی پکار پر لبیک کہے وہ چودہ صدیوں سے تاریخ بشریت کے صفحات میں تنہا ہے اور بس تنہا ہے۔
یوں تو اس کے گھر کی ہر چیز ۱۰ محرم کو لوٹ لی گئی تھی لیکن اس کا سر تن سے جدا ہونے کے بعد اس پر جو مظالم ڈھائے گئے انہیں کسی مورخ نے ضبط تحریر میں نہیں لایا،کسی ادیب نے قلمبند نہیں کیااور کسی شاعر نے شعری سانچے میں نہیں ڈھالا۔یہ ایسا مظلوم ہے کہ جس کہ مال و متاع کو دشمنوں نے لوٹا اور جس کے درد وغم،فکر و دانش ،عزت و شرف اور پیغام و تحریک کو اپنوں نے سبوتاژ کیا۔
کسی نے اس مظلوم کے غم کو معاش کا ذریعہ بنایا،کسی نے اس کے ماتم کو نام و نمود کا وسیلہ بنایا،کسی نے اس کی تحریک کے لیبل کو اپنی کامیابی کا زینہ بنایا،کسی نے اس کے دین کو اپنا پیٹ پالنے کا سہارا بنایا۔

یہ وہ مظلوم ہے جس کی سسکیاں آج بھی فضاوں میں سنائی دے رہی ہیں اور جس کے گوشت کے چیتھڑے بازاروں میں بک رہے ہیں مگر کوئی نہیں جو اس ظلم کے خلاف احتجاج کرے ،کوئی نہیں جو اس سفاکیت کے خلاف اپنی زبان کھولے،کوئی نہیں جو ریاکاری،جھوٹی دینداری اور فریبی انقلابیت کے خلاف اپنا قلم اٹھائے۔کوئی نہیں،کوئی نہیں "حسین {ع}کل بھی تنہاتھے ،حسین{ع} آج بھی تنہا ہیں"۔
قارئین محترم ۔۔۔اپنی اصلاح اور تذکیہ نفس کے بغیر معاشرے کی اصلاح کے نعرے لگانا،حسینیت نہیں ہے اور دین کے نام پر پیسے بٹورنا ، کوٹھیاں،بلڈنگیں ، محلات،گاڑیاں ، بینک بیلنس اور جائیدادیں بنانا بھی حسینیت نہیں ہے۔
حسینیت تو یہ ہے کہ انسان سب سے پہلے اپنی اصلاح کرے ،اپنا تذکیہ نفس کرے اور راہ خدا میں سب سے پہلے اپنا گھر بار قربان کرے اور پھر دوسروں کو بھی اسی طرح قربانی کی دعوت دے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس طرح کا حسینی بنناممکن ہے؟
اس سوال کے جواب کی تلاش میں ہم آپ کو ماضی کی طرف نہیں دھکیلیں گئےبلکہ عصر حاضر میں اپنے ارد گرد نطر دوڑانے کی گزارش کریں گئے۔
کیا آپ نے باقر الصدر{رح}کا نام سنا ہے ،ان کی شہادت اور ان کی بہن کی شہادت کے واقعات سے آگاہ ہیں؟
کیا آپ نے امام خمینی{رح} کا نام سنا ہے،ان کی جلا وطنی،مصائب اور مصطفی خمینی{رح} کی شہادت سے آگاہ ہیں؟
کیا آپ نے علامہ عارف حسینی کا نام سنا ہے؟کیا آپ کو ان کے بے لوث ایثار،خلوص اور شہادت کا کچھ پتہ ہے؟
کیا آپ نے ناصر صفوی کا نام سنا ہےاور ان کے خلوص وایثار سے مزین شہادت سے آگاہی رکھتے ہیں؟
کیا آپ نے ڈاکٹر محمد علی نقوی کا نام سنا ہے اور ان کی سادہ زندگی اور انتھک محنت سے آگاہ ہیں؟
کیا آپ نے رہبر معظم سید علی خامنہ ای کا نام سنا ہے؟ ان کی تعلیمی مصروفیات،علمی مشغولیت ،زہد و تقویٰ،فکری خدمات اور سیاسی سرگرمیوں کا کچھ اندازہ ہے؟
کیا آپ نے حسن نصراللہ کا نام سنا ہے،ان کی جدوجہد،مشکلات اور ہادی نصراللہ کی شہادت کی کچھ خبر ہے؟
ہاں یہ لوگ حسینی ہیں اور حسینی ایسے ہی ہوتے ہیں،انجمنوں کے عہدے ،ٹرسٹوں کے ڈھانچے،نعروں کے چربے،پوسٹروں کے انبار اور ریلیوں کے اجتماعات کسی کو حسینی نہیں بنا سکتے۔
حسینی بننے کے لیے کسی فنڈ اور کسی امداد کی ضرورت نہیں بلکہ خلوص نیت،طہارت نفس اور جذبہ ایثار کے ساتھ خود میدان میں اترنے کی ضرورت ہے۔اگر ہم نے دین کو رقم سمیٹنے اور نام و نمود کا ذریعہ بنا لیا ہے توپھرہمارا حسینیت سے کوئی تعلق نہیں اور ہم بھی حسینیت کے راستے میں کھڑی ایک دیوار ہیں۔
جب کوئی انسان خلوص نیت اور تذکیہ نفس کے ساتھ میدان عمل میں اترتا ہے تو پھر وہ ٹرسٹوں کے عہدوں ،انجمنوں کے چندوں اور تنظیموں کے پوسٹروں کے چکروں میں نہیں پڑتا۔پھر وہ دین کو غریب بنا کر ،مسلمان کو فقیر بنا کر اور نعوذ باللہ حضرت امام حسین{ع} کو مسکین بنا کر پیش نہیں کرتا۔پھر وہ حسین ابن علی{ع} کی طرح امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لیے تن تنہا میدان میں اتر جاتا ہے اور حضرت امام خمینی کی طرح یہ کہتے ہوئے نظر آتا ہے کہ اگر یہ جنگ بیس سال بھی جاری رہی تو ہم نہیں تھکیں گئے۔
اس مرتبہ محرم الحرام کا مہینہ ایسے وقت میں آیا ہےجب پوری دنیا میں خصوصا عرب دنیا میں اسلامی بیداری کی لہر امڈ رہی ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم اس سال عزاداری سید الشہداء کی مجالس میں اسلامی بیداری کے پس منظر ،ضرورت و اہمیت اور درپیش خطرات کو بطریق احسن بیان کریں۔
ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ آج جس اسلامی بیداری کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں یہ دراصل کربلا اور ایران کے اسلامی انقلاب کا ہی ثمر ہے۔آج سے کئی سال پہلے علامہ عارف حسین الحسینی اس اسلامی انقلاب کی دستک سن بھی رہے تھے اور لوگوں کو ذہنی طور پر آمادہ بھی کر رہے تھے۔نمونے کے طور پر علامہ کی تقاریر میں سے کچھ اقتباسات ملاحظہ فرمائیں:
ہمیں امید ہے کہ انشاءاللہ جس طریقے سے ایران سے استعمار کا جنازہ نکل گیاہے۔اسی طرح دوسرے اسلامی ممالک چاہے پاکستان ہو مصر ہو ،مراکش ہو،تونس ہو ان مالک سے بھی انشاءاللہ استعمار کے جنازے کو باہر پھینک دیا جائے گا۔{اسلوب سیاست ص۲۵۰}
اسی طرح ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
آج اگر مصر کے مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اسلامی نظام کا مطالبہ کر رہے ہیں تو یہ انقلاب اسلامی ایران کی برکت سے ہے۔اگر مراکش،اردن،افغانستان،ترقی اور ملائیشیا میں اسلامی تحریکیں چل رہی ہیں تو ان کی وجہ انقلاب اسلامی ایران ہے۔یقین کریں کے انقلاب اسلامی ایران کامیاب نہ ہوتا تو انقلاب اسلامی افغا نستان کی یہ پوزیشن نہ ہوتی۔اسی طریقے سے فلسطین میں جو اسلامی حرکت شروع ہوئی ہے اس سے پہلے وہ زمین کی بات کرتے تھے۔عربوں کی بات کرتے تھے ایک عصبی تحریک تھی۔ایران کے انقلاب کی وجہ سے وہاں لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور انقلاب مسجد سے شروع ہوا ہے۔اللہ اکبر کے نام سے شروع ہوا ہے۔{اسلوب سیاست ص ۲۴۱}
آپ نے ایک پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ اور دوسری طاغوتی طاقتوں کو اسلامی انقلاب سے خطرہ ہے۔شیعوں سے خطرہ نہیں ہے۔ایران سے بھی نہیں ہے۔کیونکہ یہ جو اسلامی انقلاب کی لہر ایران کی سر زمین سے اٹھی ہے۔اس کے اثرات مراکش میں بھی پائے جاتے ہیں۔تونس میں بھی پائے جاتے ہیں،مصر میں بھی پائے جاتے ہیں۔ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔{اسلوب سیاست ص ۲۶۴}
آج کے دور میں حضرت امام حسین {ع} کی آواز پر لبیک کہنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم تذکیہ نفس اور خلوص نیت کے ساتھ حضرت امام خمینی اور علامہ عارف حسینی کی مانند عالمی اسلامی برادری کی ہر ممکنہ مدد کریں اور بیداری اسلامی کی اس لہر کو موثر و مفید بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔خلوص نیّت اور تذکیہ نفس کےبغیر ہم نہ ہی تو پاکستان کو مشکلات کے بھنور سے نجات دلا سکتے ہیں اور نہ ہی اسلامی برادری کی کوئی مدد کر سکتے ہیں۔
کسی مفکر کے بقول:
طوفان نوح سے قبل کے عشروں میں
چھوٹے چھوٹے سیلاب آتے رہے وقفوں کے ساتھ
اور پانی مختلف سطحوں تک چڑھتا رہا
بعض علاقوں میں لوگ سیلاب کے اتنے عادی ہو گئے
کہ وہ خشکی پر بھی کشتیوں میں رہنے لگے
پانی کو قابومیں کرنے کا علم ترقی کرتا گیا
اس سے قبل کبھی اتنے عظیم بند نہ بنائے گئے تھے
جتنے طوفان نوح سے قبل بنائے گئے
ایک معیّن سال میں لوگوں نے سوچا کہ خطرہ ہمیشہ کے لیے ٹل گیا ہے
اس سے اگلے سال
طوفان نوح آیا اور بہا لے گیا
سارے بند اور ان کے معماروں کو

........