امام رضا (ع) کی دس احادیث

امام رضا علیہ السلام نے اپنے دوست کو خط میں مرقوم قرمایا: ہمارے دوستوں اور عقیدتمندوں سے کہو

ترجمہ: ف۔ح۔مہدوی

1- قالَ الرضا عليه السلام: الصَّلوةُ عَلى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ تَعْدِلُ عِنْدَاللّهِ عَزَّوَ جَلَّ التَّسْبيحَ وَالتَّهْليلَ وَالتَّكْبيرَ۔(1)
امام رضا (ع) نے فرمایا: محمد اور اہل بیت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر صلوات اور تحيّت کا ثواب سبحان اللّه ، لا إ له إلاّاللّه ، اللّه اكبر کے ثواب کے برابر ہے۔

2- قالَ الرضا عليه السلام: لَوْخَلَتِ الاْ رْض طَرْفَةَعَيْنٍ مِنْ حُجَّةٍ لَساخَتْ بِاهْلِها (2)
اگر زمین لمحہ بھر حجت سے خالی ہوجائے تو یہ اپنے اوپر رہنے والوں کو نگل لے گی۔
3- قالَ الرضا عليه السلام : عَلَيْكُمْ بِسِلاحِالاْ نْبياءِ، فَقيلَ لَهُ: وَ ما سِلاحُ الاْ نْبِياءِ؟ يَا ابْنَ رَسُولِ اللّه ! فَقالَ عليه السلام : 
الدُّعاءُ۔ (3)
آپ کو انبیاء علیہم السلام کا ہتھیار استعمال کرنا چاہئے، پوچھا گیا: انبیاء علیہم السلام کا ہتھیار کیا ہے؟ امام علیہ السلام نے قرمایا: انبیاء علیہم السلام کا ہتھیار خدا کی طرف توجہ دینا، دعا کرنا اور خدا سے مدد مانگنا ہے۔ 
4- قالَ الرضا عليه السلام : صاحِبُ النِّعْمَةِ يَجِبُ عَلَيْهِ التَّوْسِعَةُ عَلى عَيالِهِ۔ (4) 
نعمت و دولت کے مالک  کو اپنی قوت کے مطابق اپنے اہل و عیال کے لئے خرچ کرنے چاہئے۔

5- قالَ الرضا عليه السلام : المَرَضُ لِلْمُؤْمِنِ تَطْهيرٌ وَ رَحْمَةٌ وَلِلْكافِرِ تَعْذيبٌ وَلَعْنَةٌ، وَ إ نَّ الْمَرَضَ لايَزالُ بِالْمُؤْمِنِ حَتّى لايَكُونَ عَلَيْهِ ذَنْبٌ (5) 
بیماری مؤمن کے لئے رحمت اور گناہوں کی مغفرت کا سبب اور کافر کے لئے عذاب اور لعنت ہے۔ 
امام علیہ السلام نے مزید فرمایا: بیماری ہمیشہ مؤمن کے ہمراہ ہے تا کہ اس کا کوئی گناہ باقی نہ رہے اور موت کے بعد آسودہ خاطر ہو۔ 
6۔ قالَ الرضا عليه السلام: مَنْ زارَ قَبْرَالْحُسَيْنِ عليه السلام بِشَطِّ الْفُراتِ، كانَ كَمَنْ زارَاللّهَ فَوْقَ عَرْشِهِ۔۔ (6)
جس نے دریائے فرات کے کنارے قبر امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے عرش پر حضرت حق تعالی کی زیارت کی ہو۔ 
7- كَتَبَ الرضا عليه السلام: ابْلِغْ شيعَتى : إنَّزِيارَتى تَعْدِلُ عِنْدَاللّهِ عَزَّ وَ جَلَّ اءلْفَ حَجَّةٍ، فَقُلْتُ لاِ بى جَعْفَرٍ عليه السلام : اءلْفُ حَجَّةٍ؟! قالَ: إ ى وَاللّهُ، وَ اءلْفُاءلْفِ حَجَّةٍ، لِمَنْ زارَهُ عارِفا بِحَقِّهِ۔ (7)
امام رضا علیہ السلام نے اپنے دوست کو خط میں مرقوم قرمایا: ہمارے دوستوں اور عقیدت مندوں سے کہو: میری قبر کی زیارت ایک ہزار بار [مستحب] حج  کے برابر ہے۔ 
راوى کہتا ہے: میں نے امام محمد تقی الجواد علیہ السلام سے عرض کیا: کیا آپ کے والد کی زیارت کے لئے ایک ہزار بار حج کا ثواب ہے؟
ہاں! جس نے معرفت کے ساتھ میرے والد کی زيارت کی اس کو ایک ہزار ہزار [دس لاکھ] بار حج [مستحب] کا ثواب مقرر ہے۔

8- قالَ الرضا عليه السلام: اءوَّلُ ما يُحاسَبُ الْعَبْدُ عَلَيْهِ،الصَّلاةُ، فَإ نْ صَحَّتْ لَهُ الصَّلاةُ صَحَّ ماسِواها، وَ إ نْ رُدَّتْ رُدَّماسِواها۔ (8)
سب سے پہلے انسان کے جس  عمل کا حساب و کتاب اور محاسبہ ہوگا وہ نماز ہے، اگر انسان کی نماز صحیح ہو اور مقبول واقع ہوجائے  تو اس کے دوسرے عامال بھی قبول ہونگے ورنہ تمام اعمال رد کئے جائیں گے۔

9- قالَ عليه السلام : لِلصَّلاةِاءرْبَعَةُ آلاف بابٍ۔ (9) 
نماز چار ہزار شرطوں اور اجزاء کی حامل ہے۔ 
10- قالَ الرضا عليه السلام: الصَّلاةُ قُرْبانُ كُلِّ تَقىٍّ۔ (10) 
نماز ہر متقی اور پرہیزگار شخص کو اللہ سے قریب تر کردیتی ہے۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔ امالى شيخ صدوق ص 68، بحارالا نوار: ج 91، ص 47، ضمن ح 2۔
2۔ علل الشّرايع : ص 198، ح 21۔
3۔ بصائرالدّرجات : جزء 6، ص 308، باب 8، ح 5۔
4۔ وسائل الشّيعة : ج 21، ص 540، ح 27807۔
5۔ بحارالا نوار: ج 78، ص 183، ح 35، ثواب الا عمال : ص 175۔
6۔ مستدرك الوسائل : ج 10، ص 250، ح 38۔
7۔ مستدرك الوسائل : ج 10، ص 359، ح 2.
8۔ مستدرك الوسائل : ج 3، ص 25، ح 4۔
9۔ تهذيب الا حكام : ج 2، ص 242، ح 957۔
10۔ وسائل الشّيعة : ج 4، ص 43، ح 4469۔

ٹی وی شیعہ ریسرچ سیکشن :۔ شعبہ جمع آوری مطالب:۔ بشکریہ ابنا