نواز حکومت نیب کے ہاتھ اپنے گردن تک آتے دیکھ کر بوکھلاہٹ کا شکار ہے،علامہ ناصرعباس جعفری

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ رجہ ناصرعباس جعفری نے وزیر اعظم کی طرف سے قومی احتساب بیورو کی کارکردگی کو تنقید بنائے جانے پرردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بدعنوان عناصر کی پشت پناہی کر رہی ہے۔وزیر اعظم کی طرف سے یہ بیان قا

 

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ رجہ ناصرعباس جعفری نے وزیر اعظم کی طرف سے قومی احتساب بیورو کی کارکردگی کو تنقید بنائے جانے پرردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بدعنوان عناصر کی پشت پناہی کر رہی ہے۔وزیر اعظم کی طرف سے یہ بیان قانون انصاف کی بالادستی میں رکاوٹ پیدا کرنے کی مذموم کوشش ہے۔ اگر حکومتی بدعنوان شخصیات کو تحفظ فراہم کرنا ہی مقصود ہے تو پھر ان تمام اداروں کو بند کر دیا جانا چاہیے جوجرائم پیشہ افراد کی بیخ کنی کے لیے پرعزم انداز میں کوششیں کر رہے ہیں اور مجرموں کے لیے خوف و ہراس کی علامت ہیں۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہہ حکومت قومی سلامتی کے اداروں اور بدعنوان عناصر کے خلاف کی جانے والی کاروائیوں میں مداخلت سے باز رہے۔پاکستان کی تباہی کے ذمہ داران کے خلاف بلاتفریق کاروائی جاری رہنی چاہیے۔حکومتی صفوں میں موجود وزراء کا نیب کے خلاف بیان دراصل ان کے مخفی خوف کو ظاہر کر رہا ہے۔وہ قومی احتساب بیورو کے اپنی گردن کی طرف بڑھتے ہوئے ہاتھ دیکھ کر بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔بیشتر حکومتی عناصر نہ صرف مالی بدعنوانی میں ملوث ہیں بلکہ ان دہشت گردوں اور کالعدم جماعتوں کے مضبوط حواری بھی ہیں جنہوں نے ملک میں فرقہ واریت کی بنیاد رکھی۔نیشنل ایکشن پلان کے تحت بھی ان کے خلاف کاروائی کی جانی چاہیے۔علامہ ناصر نے کہا کہ قومی اداروں کی اعلی انتظامی پوسٹوں کی حکومتی بند ر بانٹ نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔اس عمل کو روکنے کے لیے اعلی عدلیہ اور پارلیمنٹ کو اپنے اختیارات کا استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔تمام قومی اداروں میں ذمہ داران کی تقرری میں پیشہ وارانہ مطلوبہ اہلیت ہی کو معیار گردانا جاہے تاکہ قومی اداروں کو تباہی سے بچایا جا سکے